انوارالعلوم (جلد 21) — Page 325
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۲۵ الرحمت اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ بسمِ اللَّهِ مَجْرِيهَا وَمُرْسهال الرحمت مضمون برائے اول شماره اخبار الرحمت ۲۱ / نومبر ۱۹۴۹ء) آج سے چھتیس سال پہلے نہایت خطرناک حالات اور بالکل بے بسی اور بیکسی کی صورت میں میں نے الفضل اخبار جاری کیا تھا جو پہلے ہفتہ وار شروع ہوا اور اب روزانہ اخبار کی صورت میں شائع ہو رہا ہے اور اس وقت مملک کے مقتدر پر چوں میں شمار کیا جاتا ہے۔تقسیم ہند کے بعد یہ پرچہ ہندوستان سے پاکستان میں آ گیا۔اپنی مرضی سے نہیں مجبوری سے۔ملک کے حالات ہی کچھ ایسے ہو گئے کہ مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کا رہنا اور مغربی پنجاب میں ہندوؤں اور سکھوں کا رہنا قریباً ناممکن ہو گیا۔یہ حالات یقیناً تکلیف دہ تھے، تکلیف دہ ہیں اور تکلیف دہ رہیں گے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اِن حالات کے پیدا کرنے میں قدرت کی کوئی مصلحت بھی تھی۔وہ کیا تھی ؟ شاید اس کا بیان ابھی مناسب نہ ہو۔بہر حال ان حالات کی وجہ سے علاوہ افراد کے بہت سے ہندو اور سکھ اخبار بھی مغربی پنجاب سے نکل کر مشرقی پنجاب کی طرف منتقل ہو گئے اور بہت سے مسلمانوں کے اخبار مشرقی پنجاب سے نکل کر مغربی پنجاب میں آ گئے۔جہاں تک اخباروں کا تعلق ہے شاید نقصان ہندوؤں اور سکھوں کا زیادہ ہوا اور مسلمانوں کا کم۔کیونکہ مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کا ایک ہی مقتدرا اخبار الفضل تھا لیکن مغربی پنجاب میں ہندوؤں 9966 9966 9966 کے کئی بڑے بڑے پرچے تھے مثلاً ٹربیون پرتاب ملاپ اجیت ، ویر بھارت۔