انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 308

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۰۸ پاکستان کی ترقی اور اس کے استحکام کے سلسلہ میں زریں نصائح آگے نہیں بڑھا ئیں گے تو یہ آزادی ایک کھلونا بن کر رہ جائے گی۔عملی قربانی ایک ایسی چیز ہے جس کے بغیر پاکستان کو مضبوطی حاصل نہیں ہو سکتی۔جس طرح ماں رات کو جاگتی ہے اور دن کے وقت صبح سے شام تک بچہ کی خبر گیری میں مصروف رہتی ہے اسی طرح آپ لوگوں کو بھی سمجھنا چاہیے کہ جب ہم نے آزادی مانگی اور اپنی ترقی کے لئے ایک علیحدہ ملک مانگا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فر ما دیا تو اب ہمیں اس کے لئے عملی رنگ میں قربانی کرنی پڑے گی اور عملی قربانی میں محنت سے کام کرنا ، ایثار سے کام کرنا اور دیانت سے کام کرنا ہی شامل ہے۔حکام کو چاہیے کہ وہ رشوت خوری کی عادت کو ترک کر دیں اور اپنے کیریکٹر کو مضبوط بنائیں۔گو پہلے بھی یہ ایک نہایت گندی بات تھی لیکن اب تو قومی لحاظ سے بھی یہ ایک لعنت ہے اور اسے جس قد ر جلد دور کیا جا سکے اُسے دور کرنا چاہیے۔اسی طرح ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے احکام بجائے زور اور لاٹھی سے منوانے کے محبت اور پیار سے منوانے کی کوشش کیا کریں۔یہ ایک بہت بڑی خرابی ہے کہ حکومت کے نشہ میں اپنی قوم کے جائز حقوق کا خیال نہ رکھا جائے اور ان پر زور سے حکومت چلانے کی کوشش کی جائے۔غرض عوام الناس کو چاہیے کہ وہ کی اپنے ٹیکس ادا کریں، نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ علم حاصل کرنے میں اپنا سارا زور صرف کر دیں، سرکاری حکام کو چاہیے کہ کسی سے رشوت لینے کا خیال تک بھی ان کے دل میں نہ آیا کرے۔ہر شخص جو کسی افسر کے پاس جائے وہ اس یقین اور وثوق کے ساتھ واپس آئے کہ پاکستان نے ہمارے ملک کی کایا پلٹ دی ہے۔پہلے تو سرکاری حکام روپیہ لے لیتے تھے مگر اب نہیں لیتے۔تم کی ذرا ان تین چیزوں کا ہی قیاس کر کے دیکھو کہ اگر ہمارا ملک ان پر عمل کرنے لگے تو اس میں کتنا بڑا تغیر پیدا ہو جائے یعنی تم میں سے ہر شخص اپنا ٹیکس ادا کرنے لگ جائے ، تاجر انکم ٹیکس ادا کریں، پیشہ ور دیانتداری کے ساتھ سیلز ٹیکس ادا کریں، زمیندار اپنا ٹیکس ادا کریں، ریلوں پر سفر کرنے والے کبھی بغیر ٹکٹ کے سفر نہ کریں، سرکاری حکام رشوتیں لینا ترک کر دیں اور پھر ہر دُکاندار اور تاجر اپنے اردگرد کے دکانداروں کا خیال رکھے اور اگر وہ سیلز ٹیکس وغیرہ ادا نہ کر رہے ہوں تو انہیں سمجھائے اور نصیحت کرے تو پاکستان کی آمدن کہیں سے کہیں پہنچ جائے۔اس