انوارالعلوم (جلد 21) — Page 292
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۹۲ خدام الاحمدیہ کا نائب صدرصد رانجمن احمدیہ کا اور ہر مجلس کا۔حضور نے فرمایا کسی قاعدے کی پابندی ہر حالت میں لازمی ہوتی ہے جو قو میں دلیلوں سے قاعدے توڑنے کا جواز نکالنا شروع کر دیتی ہیں اُن کی ذہنیتیں شکست خودرہ ہو جاتی ہیں۔افسر جو قانون بنائیں سب سے پہلے اُس پر خود کار بند ہوں۔خدام کا ایک بیج ہونا چاہیے اگر پیج آجکل نہ بن سکیں تو فی الحال کپڑے کا بیج بنوالیا جائے۔حضور نے فرمایا:۔میں نے پرسوں کہا تھا کہ نائب صدر کا مقام محض تنفیذ احکام صدر ہوگا۔مجھے ڈر ہے اس سے وہ لوگ جو نمبر داری مزاج کے ہوتے ہیں کوئی اُلٹ مطلب نہ نکال لیں۔تنظیم کی تبدیلی کا تعلق میرے ساتھ ہے تمہارے ساتھ نہیں۔وہ میرا نمائندہ ہوگا لہذا تمہیں نائب صدر کے احکام کی پابندی صدر ہی کے احکام سمجھ کر کرنا ہو گی۔نائب صدرا اپنی سرکاری حیثیت سے صد را مجمن احمد یہ کا ممبر ہوا کرے گا۔اسی طرح مجلس کا قائد بھی مقامی امیر کی مجلس عاملہ کا رکن ہوا کرے گا۔مجلس می مرکز یہ پانچ ہزار تک چندے کی طوعی تحریک کر سکے گی لیکن اس سے اوپر ناظر بیت المال کی اجازت ضروری ہوگی۔اگر کسی حالت میں ناظر بیت المال اس سے اتفاق نہ کرے تو صدرانجمن احمدیہ کے لمبے لائحہ عمل کی تقلید کی بجائے معاملہ صد رخدام الاحمدیہ کے پیش ہوا کرے گا۔اس کے بعد حضور نے خدام کے معاہدہ میں جان مال اور عزت کے علاوہ لفظ وقت کا اضافہ کرتے ہوئے فرمایا۔اب یہ معاہدہ یوں ہوگا۔میں اقرار کرتا ہوں کہ قومی اور ملی مفاد کی خاطر میں اپنی جان، مال، وقت اور عزت کو قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہوں گا۔اس کے بعد حضور نے لفظ ملی کی تشریح کی کہ اس میں اخلاقی اور مذہبی ضرورتیں دونوں آجاتی ہے ہیں۔اور تیار رہوں گا“ اور ”قربانی کروں گا کے فرق کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا۔جب تم یہ کہتے ہو کہ میں فلاں قربانی کے لیے ہر وقت تیار رہوں گا تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ گویا اب کی جب بھی بلاوا آئے عذر یا التوا کی گنجائش قطعاً نہیں ہے۔پہلی صورت میں کہ قربانی کروں گا تیاری نہ ہونے کی بناء پر التواء کی گنجائش نکل آتی تھی اب اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔اس کے بعد حضور نے خدام کو کھڑے کر کے دونوں عہد خدام کا عہد اور قادیان کے حصول