انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxii of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page xxxii

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۷ تعارف کتب طلباء اپنے اندر تدبر کا مادہ پیدا کریں۔طلباء کو اپنے اندر روحانیت ، دینداری اور محبت باللہ کی روح پیدا کرنی چا ہے۔اور طلباء کے اندر اتنی روحانیت ہونی چاہیے کہ اُن کا اُٹھنا بیٹھنا اور اوڑھنا بچھونا ،سونا جاگنا ، بولنا اور خاموش رہنا سب کچھ خدا کے لئے ہو۔ایک آگ ہو ایک جلن اور سوزش ہو جو ہر وقت بیتاب رکھے۔“ (۲۱) تعلیم الاسلام ہائی سکول اور مدرسہ کے قیام داستحکام میں ایک نوجوان کا تاریخی کردار مورخہ ۱۶ مئی ۱۹۵۰ء کو بوقت چھ بجے شام تعلیم الاسلام ہائی سکول کے اساتذہ اور طلباء کی طرف سے چنیوٹ میں بیرونی ممالک کے اُن تمام مبلغین کے اعزاز میں ایک دعوتِ طعام دی گئی جو اس وقت ربوہ میں موجود تھے۔ایڈریس اور جواب ایڈریس کے بعد سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے ایک ایمان افروز تقریر فرمائی جو جماعت کے لئے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔آپ نے شہد کی مکھیوں کی مثال دیتے ہوئے تلقین فرمائی کہ:۔دو جس طرح جب شہد کی مکھیوں کے چھتہ کو جب کوئی انسان اُجاڑنا چاہتا ہے تو شہد کی مکھیوں کی نوجوان پود وہ نئی پود جو اپنی عمر کو باقی سمجھتی ہے اور اس دنیا میں اپنا ایک زندہ مقصد قرار دیتی ہے وہ ملکہ کی سب سے بڑی بیٹی جو اُن کی آئندہ ہونے والی ملکہ ہوتی ہے۔اُسے لیکر اڑ جاتی ہیں اور پیشتر اس کے کہ شہد کا چھتہ تباہ کیا جائے وہ نیا چھتہ بنا لیتی ہیں اور نئے سرے سے اپنی زندگی کو شروع کر دیتی ہیں اور اپنے لئے ایک نیا مقام اور نیا مرکز بنانا شروع کر دیتی ہیں۔نوجوانوں کے لئے اس میں بہت بڑا سبق ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ کم از کم تم میں ایک مکھی سے تو زیادہ عزم ہونا چاہیے۔جب شہد کا چھتہ