انوارالعلوم (جلد 21) — Page 279
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۷۹ اسلامی شعار اختیار کرنے میں ہی تمہاری کا امیابی ہے گورداسپور آئے تھے۔شامت اعمال کی وجہ سے میں نے ٹائی لگائی ہوئی تھی اور غالباً سوٹ بھی پہنا ہوا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجلس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے صو بیدار میجر محمد ایوب صاحب نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ایک طرف لے جا کر کہا میاں ! ہم یہاں آتے ہیں تو دین سیکھنے کے لئے آتے ہیں اور جو کچھ یہاں دیکھتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام کی اصل روح ہے۔ہمارے مولوی بتایا کرتے تھے کہ انگریزوں کی نقل کرنا کفر ہے مگر معلوم ہوتا ہے یہ کفر نہیں ، آپ نے ٹائی پہنی ہوئی ہے تو میں کنچنیاں نچوانی شروع کر دوں گا اس لئے بہتر ہے کہ یہ ٹائی ابھی اُتار کر مجھے دے دو چنانچہ میں نے اپنی ٹائی انہیں دے دی اور اُنہوں نے وہیں پھاڑ کر پرے پھینک دی۔وہ پہلی اور آخری ٹائی تھی جو میں نے پہنی۔اسی طرح ایک دن اُنہوں نے بڑی سختی سے کام لیا ہماری والدہ دہلی کی رہنے والی ہیں دہلی اور یوپی کی تہذیب میں بہت فرق ہے۔یوپی میں خاوند اپنی بیوی کو اگر کوئی بات کہے گا تو ”آپ کہے گا اسی طرح مالک اپنے نوکر کو آپ کہے گا۔مثلاً ما لک نوکر سے کہے گا ذرا آپ دوڑ کر دہی لے آئے لیکن دہلی کی تہذیب یہ تھی کہ قریبی رشتہ داروں کو تم کہتے تھے اور میاں بیوی بھی ایک دوسرے کو ” تم کہتے تھے ہماری والدہ بھی چونکہ دہلی کی رہنے والی تھیں اس لئے ہمیں کی بھی ایک دوسرے کو تم کہنے کی عادت پڑ گئی۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ میں نے کہا کہ تم میری یہ بات سن لو۔جب مجلس ختم ہوئی تو صو بیدار میجر محمد ایوب صاحب مجھے ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کے تو والد ہیں مگر میرے پیر ہیں اگر میں نے آئندہ اُن کے لئے تمہارے منہ سے تم کا لفظ سنا تو تمہارے بخیئے اُدھیڑ دوں گا۔یہ پہلا سبق تھا جو مجھے دیا گیا اور میں نے تم“ کی بجائے آپ کہنا شروع کر دیا۔پہلی دفعہ جب میں نے آپ“ کہا تو یوں معلوم ہوا جیسے میں نے کسی کو گالی دی ہے لیکن آہستہ آہستہ اس کی عادت پڑ گئی۔میاں بشیر احمد صاحب ذرا چھوٹے تھے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو کہا کرتے تھے۔اگر چہ یہ باتیں تلخ تھیں مگر میرے لئے میٹھی باتوں سے بھی زیادہ مفید ثابت ہوئیں۔اب میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے خاندان کے بعض لڑکوں کی داڑھیاں قریباً منڈی ہوئی