انوارالعلوم (جلد 21) — Page xxxi
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۶ تعارف کتب صف میں کھڑا کرے گا ۔“ (۲۰) علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب ۸ مئی ۱۹۵۰ء کو حضرت خلیفۃالمسیح الثانی نے بیرونی ممالک سے آئے ہوئے مبلغین اور کچھ جانے والے مبلغین بعض غیر ملکی طلباء اور انڈو نیشیا کے مسٹر سپار جا کے اعزاز میں ساڑھے چار بجے سہ پہر احاطہ جامعۃ المبشرين ربوہ میں ایک دعوت چائے دی ۔جس میں ڈیڑھ سو کے قریب معززین شریک ہوئے اس موقع پر حضور نے ایک خطاب فرمایا جو مبلغین سلسلہ، علماء سلسلہ اور طلباء دینیات کے لئے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس خطاب میں آپ نے ایسی دعوت کا اہتمام کا اہتمام کرنے کی حکمت یہ بیان فرمائی کہ اس سے دوسرے نو جوانوں کے دلوں میں بھی یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک اچھا کام ہے جس میں ہمیں بھی حصہ لینا چاہیے ۔ دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں آنے والوں اور جانے والوں کے لئے بعض خیالات جو مستقل حیثیت رکھتی ہیں اُن کے اظہار کا موقع مل جاتا ہے ۔ فرمایا :۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے نو جوانوں کے معیار اخلاق اور ان کے کے اندر معیار دین اور ان کے معیار تقویٰ کو زیادہ سے زیادہ بلند ترین اور ان پہلوں سے زیادہ قربانی کا احساس پیدا کریں ۔ ایسے مبلغین پیدا کئے جائیں جو موجودہ ضرورتوں کو سمجھنے والے اور نئے زاویوں اور نئے نقطۂ نگاہ سے موجودہ مسائل پر گہری نظر رکھنے والے ہوں ۔ زمانہ حال کی ضروریات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالیں اور مرکز کے ہر لفظ کی اطاعت کریں ۔ طلباء کو درسی کتب کے علاوہ مختلف علمی کتابوں کا بھی مطالعہ کرتے رہنا چاہیے اور اپنے معلومات کو زیادہ سے زیادہ وسیع کرنا چاہیے ۔ 66 حضرت مصلح موعود نے وسعت مطالعہ اور محبت الہی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ۔