انوارالعلوم (جلد 21) — Page 260
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۶۰ اسلام اور موجودہ مغربی نظرب ہو گئی ہے۔اگر ہندوستان کے مسلمان تبلیغ پر زور دیتے تو آدھے ہندوستان کو وہ مسلمان بنا لیتے اور اگر تعدد ازدواج سے کام لیتے تو باقی آدھا ہندوستان بھی مسلمان ہو جاتا اور آج سارے ہندوستان میں مسلمان ہی مسلمان ہوتے مگر بد قسمتی سے عیسائیوں اور یورپین اقوام کے ڈر کے مارے خود مسلمانوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ تو عربوں کے زمانہ کی بات تھی چونکہ عربوں میں زیادہ شادیاں کرنے کا رواج تھا اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی چار شادیاں کرنے کی اجازت دے دی۔اس کا خمیازہ آج مسلمان بھگت رہے ہیں۔بہار میں جب فسادات ہوئے اور وہاں کے بعض دوست قادیان آئے تو میں نے انہیں ترقی کا یہی گر بتایا تھا مگر ساتھ ہی کہہ دیا تھا کہ آپ لوگ اس پر عمل نہیں کریں گے۔اب بھی اگر مسلمان اس پر عمل کریں تو پچاس سال میں ان کی کایا پلٹ جائے۔پھر جوا ہے اسلام نے اس کی ممانعت کی مگر یورپ نے ہنسی اُڑائی اور کہا کہ جوئے سے روکنا ایک بے معنی بات ہے مگر آج کوئی مملک دکھاؤ جس میں جوئے کے متعلق قانون نہ بن رہے ہوں۔یوں کھلے طور پر وہ اسے چھوڑ نہیں سکتے کیونکہ یکدم جوا چھوڑتے ہوئے انہیں شرم کی محسوس ہوتی ہے مگر قانون بنا رہے ہیں کہ فلاں طرز کا جوا منع ہے یا اس اس طرح کھیلنا منع۔ا ہے گو یا بات وہی آگئی جو اسلام نے پیش کی تھی مگر کھلے طور پر جوئے کو ناجائز قرار دینے میں وہ ابھی اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں۔پھر قرآن کریم نے سزائے موت کو ضروری قرار دیا تھا مگر یورپ کے کئی ملکوں نے سزائے موت کو منسوخ کر دیا اور کہا کہ یہ ظالمانہ سزا ہے مگر ۲۵ ،۳۰ سال کے بعد اب پھر سزائے موت کے قانون بنائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اس کے بغیر ملک کا امن قائم نہیں رہ سکتا۔غرض بیبیوں امور ہیں جن میں مغرب اسلام سے ٹکرا یا مگر آخر مجبور ہو کر وہ اسلام کے راستہ پر ہی چلا اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ آج سے تیرہ سو سال پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کلام نازل ہوا تھا وہ اُسی خدا کی طرف سے تھا جس نے انسان کو پیدا کیا اور جو جانتا ہے تھا کہ کون کون سی باتیں انسان کے لئے مفید ہیں اور کون کون سی مضر۔“ 66 (الفضل ۳۱ / اگست ۱۹۴۹ء )