انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 247

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۴۷ با قاعدگی سے نمازیں پڑھنے ، اس کے اثرات پر غور۔۔۔اندر بھی یہ اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کرے۔یہی حال روزوں کا ہے۔روزوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَعَلَّكُم تتقون کے روزوں کی یہ غرض ہے تا روح کو طاقت پہنچے اور وہ تقویٰ کے قابل ہو جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔وہ شخص روزہ دار نہیں جو بھوکا اور پیاسا رہتا ہے۔روزہ داروہ ہے جس کی زبان قابو میں رہے۔غرض روزے کا مقصود بھوکا اور پیاسا رہنا نہیں بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر یہ جذبہ پیدا ہو جائے کہ اُسے کسی وقت اپنے بھائیوں اور بنی نوع انسان کی خاطر اپنی مملوکہ اور حلال چیزیں بھی چھوڑنی پڑیں تو وہ چھوڑ کی دے۔روزے میں ہمارا اپنا کھانا جو حلال ذرائع سے کمایا ہوا ہوتا ہے اور شریعت کے لحاظ سے حرام نہیں ہوتا ہمارے پاس موجود ہوتا ہے، ہمارا اپنا پانی ہمارے پاس موجود ہوتا ہے لیکن ہم وہ کھانا بھی نہیں کھاتے ، وہ پانی بھی نہیں پیتے۔اس میں مسلمانوں کو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ جب تم بنی نوع انسان کی خاطر، اپنے بھائیوں کی خاطر خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنی حلال چیز بھی اپنے اوپر حرام کر لیتے ہو تو دوسرے کا مال تم پر کس طرح حلال ہو سکتا ہے۔غرض روزہ میں خدا تعالیٰ انسان کو حلال کھانے اور حلال کمانے کی طرف توجہ دلاتا ہے۔اسی طرح حج ہے لوگ اپنا کاروبار چھوڑ کر حج کے لئے جاتے ہیں اور ایک جگہ جا کر ا کٹھے ہو جاتے ہیں۔اس سے خدا تعالیٰ انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے ، اپنے وطن کے لئے اور رشتہ داروں کی خاطر تمہیں اپنا کام چھوڑ کر بھی جانا پڑے تو جاؤ۔جو شخص سچے دل سے حج کرنے جاتا ہے اُسے یہ توفیق مل جاتی ہے کہ وہ بنی نوع انسان اور اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی خاطر کام کرے اور ایسا کرنے کے لئے اگر اُسے وطن اور کاروبار بھی چھوڑنا پڑے تو وہ چھوڑ دیتا ہے۔غرض نماز ، روزہ ، زکوۃ، حج اور ذکر الہی وغیرہ روحانی غذائیں ہیں۔ان کے بعد انسان کو کچھ کام بھی کرنا ہوتا ہے لیکن بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس میں غفلت سے کام لیتے ہی ہیں۔وہ نماز پڑھ کر مغرور ہو جاتے ہیں اور بجائے اِس کے کہ اُنہیں کوئی روحانی طاقت حاصل ہو وہ نماز پڑھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ گویا اُنہوں نے خدا تعالیٰ پر احسان کیا ہے۔نما ز تو اِس لئے سکھائی گئی ہے تا نیکی کی طاقت بڑھے۔اگر کوئی شخص نماز پڑھتا ہے اور پھر اُس کی نیکی کی طاقت نہیں