انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 241

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۴۱ با قاعدگی سے نمازیں پڑھنے ، اس کے اثرات پر غور۔۔۔کی ذات سے ہوتی ہے۔جب کسی بشر میں یہ دونوں محبتیں کامل طور پر پائی جاتی ہوں تو اُسے انسان کہتے ہیں۔غرض ایک طرف انسان، بنی نوع انسان یعنی قوم ، ملک اور خاندان کی خدمت کرتا ہے تو دوسری طرف وہ عشق الہی میں مبتلا ہوتا ہے، کسی بشر کو چلتا پھرتا یا سانس لیتا ہوا دیکھ کر اُسے انسان نہیں کہتے۔وہ صرف بشر ہے یعنی زمین پر چلنے پھرنے والا ایک جانور۔وہ انسان نہیں کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ کی محبت نہیں پائی جاتی۔ایک محبت والے کو انسان نہیں کہتے۔ایک طرف سے محبت کرنے والا تو جانور بھی ہوتا ہے۔گائے ، بھیڑیں اور گھوڑے بھی بچے سے محبت کرتے ہیں حتی کہ چیونٹی اور مکھیاں بھی اپنے بچوں سے محبت کرتی ہیں۔پھر محض بیوی اور کی خاوند کی آپس میں محبت ہونے کی وجہ سے انسان انسان کس طرح کہلا سکتا ہے۔یہ لفظ تو صرف اُس جانور کے لئے بولا جاتا ہے جس میں دو محبتیں پائی جاتی ہوں۔ایک طرف اس میں خدا تعالیٰ کی محبت پائی جاتی ہو اور دوسری طرف بنی نوع انسان کی محبت پائی جاتی ہو۔خدا تعالیٰ کی محبت جسم سے نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ روحانی ہے جسمانی نہیں۔تم اپنے بھائی اور بچے کو تو گود میں لے کر پیار کر سکتی ہو لیکن خدا تعالیٰ کو جسم سے پیار نہیں کر سکتیں۔خدا تعالیٰ ایک وراء الوراء ہستی ہے جس کو نہ تم مادی آنکھوں سے دیکھ سکتی ہو نہ مادی کانوں سے، تم اُس کی آواز سُن سکتی ہو نہ تمہارے مادی ہاتھ اُسے چھو سکتے ہیں۔وہ اعلیٰ درجہ کی اور وراء الوراء ہستی ہے۔اُس سے محبت کی جاسکتی ہے تو دل اور روح سے۔اور جس کی روح مردہ ہے وہ خدا تعالیٰ سے محبت کیا کرے گی۔جس روح نے کھانا نہیں کھایا وہ زندہ کس طرح ہو سکتی ہے۔اور اگر وہ زندہ نہیں تو مردہ روح محبت نہیں کر سکتی۔مردہ ماں کے سامنے خواہ تم اُس کے بچے کو ذبح کر دو وہ اس کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکے گی۔ایک بکری اپنے بچے کی حفاظت کی خاطر کوشش کرے گی ، ایک مرغی اپنے بچے کی خاطر کوشش کرے گی لیکن مردہ عورت اپنے بچے کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتی اس لئے کہ وہ مرچکی ہے اور وہ اپنے بچہ کی تکلیف کو محسوس نہیں کر سکتی۔اسی طرح اگر کسی کی روح مر جائے تو اس کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ وہ محبت کر سکتا ہے سرا سر بیوقوفی ہے۔خدا تعالیٰ سے محبت وہی کر سکتا ہے جس کی روح زندہ ہو اور روح تبھی زندہ رہ سکتی ہے جب اُسے غذا ملے۔اور اُس کی غذا روٹی نہیں روح کھانا نہیں کھاتی ، پانی نہیں پیتی ، اُس کی غذا نماز ، روزہ ، زکوۃ، حج اور