انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 239

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۳۹ با قاعدگی سے نمازیں پڑھنے ، اس کے اثرات پر غور۔۔۔اس کے بعد میں تمہیں اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ انسانی زندگی کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ایک غذائی پہلو ہوتا ہے جس میں انسان غذا سے طاقت حاصل کرتا ہے اور دوسرا پہلو اُس کی فعالی حیثیت ہوتی ہے جس میں وہ حاصل کی ہوئی طاقت کو استعمال کرتا ہے۔مثلاً بجلی کوئلہ کے ساتھ پیدا کی جاتی ہے، مشین کوئلہ کھاتی ہے اور اُس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ہم بٹن دباتے ہیں اور بجلی سے کام لیتے ہیں اور جہاں بجلی نہیں ہوتی وہاں غذائی اور فعالی دونوں پہلو تیار کئے جاتے ہیں۔مثلاً لالٹین ہوتی ہے اس میں ہم تیل ڈالتے ہیں یہ اس کا غذائی پہلو ہے۔پھر ہم بھی تی کو دیا سلائی لگا کر روشن کر کے اس سے کام لیتے ہیں یہ اس کا فعالی پہلو ہوتا ہے۔یہی حالت انسانی جسم کی ہے کوئی انسان خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو ایسا نہیں گزرا جو کھاتا پیتا نہ ہو۔تم میں ہو یا سے ہر بوڑھا، جوان ، بچہ عورت اور مرد غذا کھاتا ہے خواہ وہ غذا اچھی ہو یا بُری ، چاول : گندم، گوشت ہو یا ترکاری ، وہ غذا کھاتا ضرور ہے۔اگر وہ غذا نہ کھائے تو اُس کا جسم مر جائے گا اور طاقت قائم نہیں رہے گی۔غذا کھانے کے بعد وہ کام کرتا ہے۔کوئی تاجر ہوتا ہے وہ تجارت کرتا ہے، کوئی مزدور ہوتا ہے وہ مزدوری کرتا ہے، کوئی سرکاری ملازم ہوتا ہے وہ ملازمت کرتا ہے غرض نوکری ، زراعت اور تجارت سب کاموں کی بنیا د روٹی پر ہوتی ہے۔اگر کی کوئی شخص کھانا نہ کھائے تو اُس کا جسم بے کار ہو جائے گا اور وہ کوئی کام نہیں کر سکے گا۔انگریزی زبان کا مقولہ ہے کہ فوج پیٹ پر لڑتی ہے اگر پیٹ ہی بھرا ہوا نہ ہوگا تو کوئی سپاہی لڑے گا کیا؟ غرض پہلے انسان غذا کھاتا ہے اور پھر اُس سے جو طاقت حاصل ہوتی ہے اُس سے کام کرتا ہے یہی حالت دین کی ہے۔دین میں بھی ایک حصہ غذائی ہوتا ہے اور ایک فعالی حصہ ہوتا ہے۔جس کی طرح جسم کی طاقت کے قیام کے لئے روٹی ، چاول، سبزی اور ترکاری وغیرہ اشیاء مقرر ہیں اور جس طرح ہم دن میں چار پانچ دفعہ کھاتے پیتے ہیں، اسی طرح روح کو زندہ رکھنے کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کچھ چیزیں مقرر ہیں۔مثلاً نماز ہے ، روزہ ہے، زکوۃ ہے، صدقہ و خیرات کی ہے، ذکر الہی ہے یہ سب روح کی غذا ئیں ہیں۔جس طرح روٹی کے بغیر جسم زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح ان چیزوں کے بغیر روح بھی زندہ نہیں رہ سکتی۔تم یہ کبھی نہیں کہہ سکتے کہ فلاں آدمی نے ۶۰ دن تک کھانا نہیں کھایا اور پھر وہ زندہ رہا۔اگر کوئی شخص تمہارے سامنے یہ بات