انوارالعلوم (جلد 21) — Page 223
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۲۳ کوشش کرو کہ اُردو ہماری مادری زبان بن جائے احمدیت کے شدید مخالف تھے اور دہلوی ہونے کی وجہ سے غرور بھی تھا۔وہ قہقہہ مار کر ہنس پڑے اور کہنے لگے بس بس مجھے پتہ لگ گیا ہے کہ تم کس زبان میں بات کرتے ہو۔یہ ہے تو ایک لطیفہ مگر یہ بات ظاہر ہے کہ ہم میں سے کسی کا یہ کہنا کہ اس کا لہجہ دہلی والوں کا سا ہے درست نہیں۔ہماری مادری زبان اُردو ہے اور ہمارا خون دہلی والوں کا ہے بلکہ ان کا خون ہے جن کے خون سے اُردو بنا ہے۔جیسے میر درد اور مرزا غالب لیکن بوجہ پنجاب میں پرورش پانے کے ہم میں ایسے آثار اور علامات پائی جائیں گی جن سے صاف معلوم ہوگا کہ ہم پورے ہندوستانی نہیں۔بعض وقت محاوروں کا بھی اثر پڑ جاتا ہے بوجہ پنجابی ماحول ہونے کے بغیر خیال کے کوئی نہ کوئی چی پنجابی محاورہ منہ سے نکل جاتا ہے۔ہم گھر میں عموماً بچوں سے مذاق کرتے ہیں وہ بات کرتے ہوئے بعض دفعہ پنجابی کے الفاظ بول جاتے ہیں۔وہ بھی جانتے ہیں کہ وہ الفاظ اردو زبان کے نہیں لیکن غیر ارادی طور پر ان کے منہ سے نکل جاتے ہیں۔میں ایک دفعہ دہلی گیا۔خواجہ حسن نظامی صاحب نے میری دعوت کی۔مولوی نذیر احمد صاحب کے پوتے جو ذاتی رسالہ نکالتے ہیں اُن کے ماموں میرے ساتھ تھے انہوں نے میری کوئی تقریر سنی ہوئی تھی۔اُنہوں نے میرے لحاظ یا تکلف کی وجہ سے کہا کہ خواجہ صاحب ! میں نے ان کی تقریر سنی ہے ان کا لہجہ بالکل دبلی والوں کا سا ہے اور یہ بالکل پنجابی معلوم نہیں ہوتے مگر خواجہ صاحب اپنے رنگ کے آدمی ہیں انہیں یہ بات بُری لگی اُنہوں نے کہا میں تو یہ بات نہیں مان سکتا۔میں نے ان کی کتابیں پڑھی ہوئی ہیں ان میں بعض مقامات پر پنجابی محاورات کی استعمال ہوئے ہیں۔لیکن آخر وہ بھی دہلوی تھے اُنہوں نے فوراً کہا۔خواجہ صاحب! میں نے تقریر کا ذکر کیا تھا کتاب کا نہیں۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ ہم تقریر میں بھی بعض پنجابی محاورات غیر ارادی طور پر استعمال کر جاتے ہیں تا ہم متواتر بولنے اور ہمیشہ اُردو میں ہی گفتگو کرنے کی وجہ سے عادت ہو جاتی ہے۔پس میں آپ کو ایک نصیحت تو یہ کروں گا کہ اُردو زبان کونئی زندگی دو اور ایک نیا لباس پہنا دو۔آپ لوگوں کو چاہیے کہ ہمیشہ اسی زبان میں ہی گفتگو کیا کریں۔جب ہم اُردو میں ہی گفتگو کریں گے تو لازمی بات ہے کہ بعض الفاظ کے متعلق ہمیں یہ پتہ نہیں لگے گا کہ ان کو اُردو زبان