انوارالعلوم (جلد 21) — Page 221
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۲۱ کوشش کرو کہ اردو ہماری مادری زبان بن جائے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ کوشش کرو کہ اُردو ہماری مادری زبان بن جائے ( فرموده ۲۹ جولائی ۱۹۴۹ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے خدام الاحمد یہ کے ایڈریس کے جواب میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا: و قائد صاحب مجلس خدام الاحمدیہ کوئٹہ نے اپنی کارگزاری کی جو رپورٹ پڑھ کر سنائی ہے اس پر مجھے اس لحاظ سے خوشی حاصل ہوئی کہ یہاں کے خدام میں ایک حد تک بیداری پائی جاتی ہے اور وہ اپنے اس نام کی قدر کرتے اور اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتے ہیں جو اُنہوں نے اپنے لئے اختیار کیا ہے ۔ جیسا کہ احباب کو معلوم ہے چند دن سے مجھے در دنقرس دوبارہ شروع ہو گیا ہے جس کی وجہ سے زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتا اس لئے زیادہ لمبی باتیں بیان نہیں کر سکوں گا مگر پھر بھی میں چاہتا ہوں کہ اس تقریب پر کچھ باتیں بیان کر دوں ۔ سب سے پہلی بات جو ایڈریس کے ساتھ تو تعلق نہیں رکھتی لیکن نہایت اہم ہے وہ یہ ہے کہ ہندوستان میں مختلف قوموں اور زبانوں کے اختلاط سے ایک زبان پیدا ہوئی جس کو اُردو کہتے ہیں ۔ اس زبان کی طرف ہندوستان میں بہت کم توجہ رہ گئی ہے بلکہ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ اسے بالکل مٹا دیا جائے۔ پنجاب کا شہری طبقہ اس کا بہت شائق چلا آتا ہے اور اس میں علامہ اقبال اور حفیظ جالندھری جیسے بڑے بڑے شاعر پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اُردو زبان کی بہت خدمت کی ہے اور ان کی وجہ سے ہندوستان اور اس کے باہر اُردو زبان بہت مقبول ہو گئی ہے۔ مگر پنجاب کے عوام اور غیر تعلیم یافتہ اشخاص ابھی اس سے بہت دُور ہیں اور اُنہیں اِس میں کلام کرنا دو بھر معلوم ہوتا ہے۔ اگر وہ اس میں بات کریں تو طریق گفتگو غیر زبان دانوں کا سا معلوم