انوارالعلوم (جلد 21) — Page 213
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۱۳ رمضان کے علاوہ بھی روزے رکھے جائیں بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ رمضان کے علاوہ بھی روزے رکھے جائیں فرموده ۲۶ / جولائی ۱۹۴۹ء۔بمقام پارک ہاؤس کوئٹہ ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔رمضان کا مہینہ جو خدا تعالیٰ کی بہت بڑی برکات کے حصول کا ایک ذریعہ تھا آیا اور گذر گیا اِس مہینہ میں جن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی اُنہوں نے دعاؤں اور شب بیداری اور نوافل کے ذریعہ اُس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کی اور اپنے اپنے ظرف کے مطابق خدا تعالیٰ کا فیضان حاصل کیا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایک بہت بڑا سبق جو رمضان سے ہمیں حاصل ہوتا ہے اور جس کی طرف اس زمانہ میں بہت کم توجہ کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ رمضان ہمیں اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ مؤمن کو اپنی روحانیت کی تکمیل کے لئے دوسرے ایام میں بھی ی روزے رکھنے چاہئیں۔مگر ہوتا کیا ہے؟ رمضان آتا ہے تو لوگ روزے رکھنے شروع کر دیتے ہی ہیں اور بعض دفعہ اتنا تعہد کرتے ہیں کہ مسافر اور مریض بھی روزے رکھتے ہیں اور یہ کوشش کی جاتی ہے کہ کوئی ایسی توجیہہ تلاش کی جائے جس کی وجہ سے باوجود بیمار اور مسافر ہونے کے روزہ رکھ لیا جائے۔لیکن جب رمضان گذر جاتا ہے تو وہ روزوں کو اس طرح بھول جاتے ہیں کہ سال کے باقی گیارہ مہینوں میں اُنہیں کبھی خیال بھی نہیں آتا کہ وہ تھوڑے بہت روزے رکھ لیا کریں کی حالانکہ اگر غور سے کام لیا جائے تو اسلام نے جس قدر عبادتیں مقرر کی ہیں وہ کسی معین وقت کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ہیں اور سال کے ہر حصہ میں اُن پر عمل کیا جا سکتا ہے۔سب سے بڑی عبادتیں نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج ہیں۔ان چاروں کو دیکھ لو ان کے لئے معین وقت نہیں بلکہ یہ سارے سال میں پھیلا دی گئی ہیں۔نماز تو سارا سال ہی پڑھی جاتی ہے اس کے علاوہ سال میں