انوارالعلوم (جلد 21) — Page xxiv
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۹ تعارف کتب سے مستفیض فرمایا اور اُنہیں اسلامی احکام پر عمل پیرا ہونے اور پاکستان کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی طرف نہایت دلآویز پیرا یہ میں توجہ دلائی۔حضور کی تقریر اول سے آخر تک انتہائی دلچپسی ، پورے انہماک اور توجہ کے ساتھ سنی گئی۔حضور نے پاکستان کی حفاظت و سلامتی کا خیال رکھنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔”ہم نے خود کہا تھا کہ خدایا! ہمیں یہ ملک دے اب اس کو صحیح طور پر قائم رکھنا اور اسے ترقی دینا ہمارے ہاتھ میں ہے۔اگر ہم اپنے فرائض کو نہیں سمجھیں گے تو ہم شرمندہ ہوں گے اس جہاں میں بھی اور اگلے جہاں میں بھی۔اللہ تعالیٰ ہمیں کہے گا کہ میں نے تمہیں یہ ملک دیا تمہارے مطالبہ پر مگر تم نے اسے ضائع کر دیا۔“ پاکستان کی آمدن بڑھانے کے لئے آپ نے تمام طبقہ ہائے زندگی کے لوگوں کو دیانتداری سے اپنا ٹیکس ادا کرنے اور پاکستان کی حفاظت کے لئے زیادہ سے زیادہ نو جوانوں کو فوج میں بھرتی ہونے کی تلقین فرمائی۔اُن دنوں اخباروں میں یہ چرچا تھا کہ گورنمنٹ پاکستان اسلام کی حکومت قائم کرنے کے لئے کچھ نہیں کرتی ہم نے تو پاکستان اسلام کے لئے مانگا تھا اس کے متعلق بصیرت افروز ارشادات فرمائے اور آخر پر ارشاد فرمایا:۔د محض نعرے لگا لینا کسی قوم کی کامیابی کی علامت نہیں ہوتی اگر اس وقت سارے لوگ نعرہ تکبیر بلند کرنے لگ جائیں گے۔اگر اس وقت سارے لوگ یہ کہنے لگ جائیں گے کہ پاکستان زندہ باد۔ہندوستان مردہ باد تو اس سے ہندوستان کی ایک چوہیا بھی نہیں مرے گی لیکن اگر سب لوگ ان باتوں پر عمل کرنے لگ جائیں جن کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے۔تاجر ٹیکس دینے لگ جائیں ، عوام الناس بغیر ٹکٹ کے ریل کا سفر نہ کریں ، نو جوان بے ہودہ باتوں میں اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے تعلیم میں ترقی کریں اور جو مضبوط نو جوان ہیں وہ فوجوں میں بھرتی ہوں اور افسر رشوت خوری کی عادت کو ترک کر دیں