انوارالعلوم (جلد 21) — Page 197
انوار العلوم جلد ۲۱ ,, ۱۹۷ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر ” جیسا واقعہ سقراط کو یونان میں پیش آیا تھا ویسا ہی واقعہ مجھے قادیان میں پیش آیا لیکن ایک اور واقعہ بھی ہے جو ہمیں ایک اور نبی اللہ کے متعلق ملتا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق یہ فیصلہ تھا کہ وہ یہود کی بادشاہت کو دوبارہ دنیا میں قائم کریں گے۔مگر آپ پر ایک وقت ایسا آیا جب سارا ملک آپ کا دشمن ہو گیا اور اُس کی دشمنی ایک خطر ناک صورت اختیار کر گئی۔یہودیوں نے حکومت کے نمائندوں کے پاس آپ کے متعلق شکایتیں کیں اور آپ کو پکڑوا دیا گیا اور آخر حکام کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا گیا کہ آپ باغی ہیں۔جس طرح یونان کے مجسٹریٹوں نے یہ فیصلہ کیا کہ سقراط باغی ہے اسی طرح فلسطین کے مجسٹریٹوں نے یہ فیصلہ کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام باغی ہیں دونوں کے متعلق ایک ہی قسم کا الزام تھا۔سقراط کے پاس جب کی ان کے شاگر د گئے اور آپ کو انہوں نے کہا کہ آپ مُلک سے نکل جائیں تو سقراط نے کہا نہیں نہیں میں اس ملک سے باہر نہیں نکل سکتا خدا تعالیٰ کی تقدیر یہی ہے کہ میں یہاں رہوں اور زہر کے ذریعہ مارا جاؤں۔اگر میں اس ملک سے باہر نکلتا ہوں تو خدا تعالیٰ کے منشاء کے خلاف کرتا ہوں۔ادھر حضرت مسیح علیہ السلام کو جب یہ کہا گیا کہ آپ کو پھانسی پر لٹکا کر مارا جائے گا تو آپ نے فرمایا میں اس کے لئے تیار نہیں ہوں میں کوئی تدبیر کروں گا تا کسی طرح سزا سے بچ جاؤں۔اور مسیح علیہ السلام نے تدبیر کی اور جیسا کہ آپ کو پہلے بتا دیا گیا تھا آپ کو دو تین دن تک قبر میں رکھا گیا اور پھر وہاں سے صحیح سلامت نکال لیا گیا۔آپ اپنے حواریوں سے ملے اور انجیل کے بیان کے مطابق آپ آسمان پر اُڑ گئے لیکن دنیوی تاریخ کے مطابق آپ نصیبین ، ایران اور افغانستان کے راستہ ہوتے ہوئے ہندوستان چلے آئے۔پہلے آپ مدراس گئے پھر آپ گورداسپور آئے۔پھر کانگڑہ کی طرف چلے گئے مگر وہاں موسم اچھا نہ پا کر آپ تبت کے پہاڑوں کے راستہ سے کشمیر چلے گئے۔گویا ایک طرف یہ مثال پائی جاتی ہے کہ مامور من اللہ کے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا کہ اُسے ماردیا جائے۔اُس کے ساتھی اسے نکالنے کے لئے بڑی بڑی رقمیں خرچ کرتے ہیں اور پولیس بھی اُن کے اِس کام میں ہمدردی کرتی ہے مگر وہ انکار کر دیتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کے اصرار کے باوجود یہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ یہاں سے کسی اور ملک میں جانے کے لئے تیار نہیں۔مگر حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی ایسا ہی واقعہ پیش آتا ہے وہ بھی۔