انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 195

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۹۵ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر دی جائے گی ؟ لیکن فرشتے نے مجھے کہا ہے کہ پرسوں تمہارے لئے جنت کے دروازے کھولے جائیں گے اس لئے جہاز آج نہیں آئے گا کل آئے گا اور پرسوں مجھے مار دیا جائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ایک طوفون آیا اور جہاز کو وہیں ٹھہر نا پڑا اور دوسرے دن وہ اس شہر میں پہنچ سکا اور تیسرے دن وہ مارے گئے۔آپ کی بات سننے کے بعد اُس شاگرد نے کہا آپ کیوں ضد کر رہے ہیں کیا آپ کو ہم پر رحم نہیں آتا؟ اگر آپ زندہ رہیں گے تو ہمیں آپ سے بہت فوائد حاصل ہوں گے۔اگر آپ یہاں سے بھاگ جائیں اور کسی اور حکومت کے زیر سایہ رہنا شروع کی کر دیں تو کیا ہی اچھا ہو۔سقراط نے کہا میں اس ملک سے کس طرح بھاگ سکتا ہوں ؟ کیا میں کی عورتوں کا لباس پہن کر یہاں سے بھاگ جاؤں؟ اگر میں عورتوں کا لباس پہن کر یہاں سے بھاگ جاؤں تو لوگ کہیں گے سقراط عورتوں کا لباس پہن کر بھاگ گیا۔یا پھر میں جانوروں کی کھال میں لپٹ کر یہاں سے بھاگ جاؤں؟ کیا اس سے میری عزت ہوگی؟ فریتو نے کہا میرے آقا! یہ ٹھیک ہے لیکن ہم ان چیزوں کے بغیر آپ کو نکالیں گے۔میں ایک مالدار آدمی ہوں اور فوجی افسر میرے تابع ہیں میں نے اُن سے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ میری اس بارہ میں مدد کریں گے اور آپ کو عزت کے ساتھ کسی اور ملک میں چھوڑ آئیں گے جن میں سے اُس نے کریٹ کا نام بھی لیا۔سقراط نے کہا پھر تم جانتے ہو کیا ہوگا ؟ ایک بھاری رقم بطور تاوان ڈالی جائے گی اور جب ایسا ہوگا تو فریتو تم ہی بتاؤ کیا یہ اچھی بات ہوگی کہ میں اپنی جان بچانے کے لئے اپنے ایک شاگرد کو تباہ کروں؟ فریتو نے کہا میرے آقا ! آپ اس کا خیال نہ کریں آپ کی کے شاگرد بہت سے ہیں اور یہ رقم ہم آپس میں بحصہ رصدی تقسیم کر لیں گے۔سقراط نے کہا ہاں یہ ٹھیک ہے لیکن جب حکومت کو پتہ چلا تو وہ سب کو قید کر لے گی۔فریتو نے کہا ہاں آقا۔مگر وہ کچھ مدت کے بعد ہمیں چھوڑ دے گی۔سقراط نے کہا مگر کیا یہ اچھی بات ہوگی کہ میں اپنی جان بچانے کے لئے اپنے شاگردوں کو قید خانہ میں ڈلواؤں؟ فریتو نے کہا مگر آقا! آپ سوچئے آپ روحانیت کی تعلیم دیں گے اور لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف لائیں گے یہ کتنا بڑا کام ہے اس کے لئے اگر ہم قید میں بھی گئے تو کیا ہوا۔سقراط نے کہا یہ بات ٹھیک ہے اور شاید یہ بات سوچنے کے قابل ہومگر فریتو میں جو ۸۵ سال کا ہو گیا ہوں اگر کسی ملک میں جاتے ہوئے رستہ میں مرجاؤں