انوارالعلوم (جلد 21) — Page 165
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۲۵ آئندہ وہی قومیں عزت پائیں گی جو مالی و جانی بیٹھا کرتا تھا ، آنے شروع ہوئے۔جب وہ آئے تو حضرت عمر نے اُن کو عزت اور احترام کے ساتھ بٹھایا اور اُن سے محبت اور پیار کے ساتھ باتیں شروع کیں۔وہ سات یا آٹھ آدمی تھے۔ابھی وہ بیٹھے ہی تھے کہ اتنے میں ایک غلام آیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی اور ابتدائی کی زمانہ میں آپ پر ایمان لا چکا تھا۔حضرت عمر نے اُن رؤساء سے فرمایا کہ پیچھے ہٹ جاؤ اور اِن کو جگہ دو۔وہ پیچھے ہٹ گئے اور اُس غلام کو آگے جگہ دی گئی۔ابھی وہ بیٹھا ہی تھا کہ اتنے میں ایک دوسرا غلام آ گیا۔معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کا امتحان لینا چاہتا تھا۔حضرت عمرؓ نے پھر اُن سے فرمایا کہ ذرا پیچھے ہٹ جاؤ اور اِن کو جگہ دے دو۔وہ بیٹھا تو اُدھر سے تیسرا غلام آ گیا۔حضرت عمرؓ نے پھر اُن سے فرمایا کہ ذرا پیچھے ہٹ جاؤ اور ان کو جگہ دو۔اسی طرح یکے بعد دیگرے غلام آتے چلے گئے اور حضرت عمرؓ ہر غلام کے آنے پر یہی فرماتے کہ ذرا پیچھے ہٹ جاؤ اور ان کو جگہ دو یہاں تک کہ پیچھے ہٹتے ہٹتے وہ شہر کے رئیس جو نتیوں میں جا بیٹھے اور کی عزت کی جگہ پر سب غلام بٹھا لئے گئے۔یہ دیکھ کر وہ لڑ کے مجلس سے اُٹھ گئے اور اُنہوں نے باہر جا کر ایک دوسرے سے کہا دیکھا! آج ہمارے ساتھ کیا ہوا۔آج ہماری وہ ذلت کی گئی ہے کہ جس کا ہمیں وہم اور گمان تک نہ تھا۔ہمارے زرخرید غلام جن کا کام ہماری جوتیاں صاف کرنا اور ہمارے گھروں میں پانی بھر نا تھا ، اُن کو اگلی صفوں میں جگہ دی گئی اور ہمیں جوتیوں میں بٹھایا گیا۔اُن نو جوانوں میں سے ایک زیادہ عقلمند تھا۔اُس نے کہا۔تمہیں پتہ ہے ہمارے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا گیا ؟ یہ نتیجہ ہے ہمارے افعال کا جب خدا کے رسول نے مکہ میں دعوی کیا تو یہ غلام ہی تھے جنہوں نے آمَنَّا وَصَدَّقْنَا کہا اور آپ کی تائید کیلئے کھڑے ہو گئے لیکن ہمارے کی باپ دادا نے آپ کی مخالفت کی۔پس آج جو کچھ ہوا ہے یہ اُسی قصور کی پاداش ہے جو ہمارے باپ دادا سے سرزد ہوا۔اُنہوں نے کہا ہم مانتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا سے یہ قصور ہوا مگر آخر اس کے ازالہ کا بھی کوئی طریق ہونا چاہیے اُس نے کہا چلو یہی بات حضرت عمرؓ سے پوچھیں۔حضرت عمرؓ کے خاندان کے سپر دلوگوں کے نسب ناموں کو یاد رکھنا تھا۔یہ کام گو ہمارے ملک میں میراثیوں کے سپرد ہوتا ہے مگر عربوں اور دوسری آزاد قوموں میں یہ نہایت ہی معزز کام سمجھا جاتا تھا اور ہے۔پس چونکہ حضرت عمررؓ اُسی خاندان میں سے تھے جو انساب کو جانتا تھا