انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 161

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۶۱ آئندہ وہی قو میں عزت پائیں گی جو مالی و جانی۔۔یہ ہمارا ملک ہے اور ہمیں ہی دشمن کے مقابلہ کے لئے تیار ہونا پڑے گا۔میں تمہیں وہ بات نہیں کہتا جو میں نے نہیں کی۔میرے جتنے جوان بیٹے پاکستان میں ہیں اُن میں سے سوائے دو کے جو کالج میں پڑھتے ہیں (اور وہ بھی بعد میں ہو آئے ہیں ) باقی سب فوجی خدمت کر آئے ہیں اور میں تو سمجھتا ہوں وہ مقاصد جو ہمارے سامنے ہیں بغیر قربانی کے حاصل ہی نہیں ہو سکتے۔ہم نے تو دنیا کو فتح کرنا ہے اور دنیا کی فتح بغیر قربانی کے نہیں ہوسکتی۔بے شک یہ فتح قلوب کی فتح ہے مگر قلوب کی فتح بھی بغیر قربانی کے نہیں ہوسکتی۔لوگ سب سے زیادہ قلوب کی فتح پر ہی دشمن ہوا کرتے ہیں جب تم کسی کے پاس جا کر احمدیت کی تبلیغ کرتی ہو تو اُسے دولت ایمان دیتی ہو مگر وہ کی خوش نہیں ہوتا بلکہ تمہارا مقابلہ کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ تم بھی دولت ایمان سے محروم ہو جاؤ اور تمہیں دکھ دینا شروع کر دیتا ہے۔پس میں تمہیں تمہارے فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔تمہارے مرد بز دلی دکھا رہے ہیں اور جب انہیں بلایا جاتا ہے کہ آگے آؤ تو وہ کئی قسم کے بہانے بنانے لگ جاتے ہیں، کبھی کوئی عذر کر دیتے ہیں اور کبھی کوئی۔وہ جتنے عذر کرتے ہیں قرآن کریم میں وہ سب کے سب منافقوں کے لکھے ہوئے ہیں۔تمہارا کام یہ ہے کہ تم اپنی آئندہ نسلوں کو آزاد بناؤ۔تمہارا کام یہ ہے کہ تم اپنے خاوندوں سے کہو کہ یا تو تم دین کے لئے قربانی کرو یا آئندہ ہمارے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔تمہارے لئے تلوار پکڑ کر جہاد کرنے کا موقع تو بہت کم آتا ہے تمہارا جہاد یہی ہے کہ تم اپنے خاوند، اپنے باپ ، اپنے بھائیوں اور اپنے بیٹوں سے کہو کہ اگر تم لڑائی کے لئے تیار نہیں ہو گے تو ہم تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھیں گی۔حضرت عمرؓ کے زمانہ کا واقعہ ہے کہ ہندہ جو ساری عمر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑتی رہی تھی فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوگئی تھی۔ایک لڑائی میں ہندہ کا خاوندا بوسفیان اور اُس کا بیٹا معاویہ دونوں شامل ہوئے۔دشمن نے ایسا شدید حملہ کیا کہ مسلمان اُن کے مقابلہ کی تاب نہ لا کر جنگ سے بھاگ نکلے۔جب ہندہ نے دیکھا کہ مسلمان واپس بھاگے چلے آرہے ہیں تو اُس نے عورتوں سے کہا دیکھو ! مسلمان اس وقت بھاگتے چلے آ رہے ہیں ، آؤ ہم انہیں روکیں۔یہ کہہ کر اُنہوں نے خیموں کے بانس پکڑ لئے اور اُن کے اونٹوں اور گھوڑوں کو چوبیں مار مار کہ