انوارالعلوم (جلد 21) — Page 152
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۵۲ آئندہ وہی قومیں عزت پائیں گی جو مالی و جانی۔میں آنسو آ گئے اور اُس نے کہا۔عثمان ! تم جانتے ہو تمہارا باپ میرا بھائی تھا اس لئے میری موجودگی میں تمہارا یہاں سے چلے جانا بڑی ذلت اور رسوائی کی بات ہے۔تم میرے ساتھ مکہ واپس چلو میں یہ اعلان کر دوں گا کہ تم میری پناہ میں ہو اور کوئی شخص تمہیں دُکھ نہیں دے سکے گا۔چنانچہ وہ حضرت عثمان کو اپنے ساتھ لے گیا اور جیسے عرب کا دستور تھا اُس نے خانہ کعبہ میں ے ہو کر اعلان کر دیا کہ عثمان میری پناہ میں ہے جو اس کو چھیڑے گا وہ مجھے لڑائی کے لئے انگیختہ کرے گا۔عربوں میں یہ دستور تھا کہ جو شخص کسی شخص کو اپنی پناہ میں لے لیتا تھا اس پر کوئی دوسرا شخص ہاتھ اُٹھانے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔عربوں میں عیب بھی تھے اگر عیب نہ ہوتے تو وہ جی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیوں کرتے مگر اُن میں بعض خاص خوبیاں بھی تھیں جو اگر ہم میں پیدا ہو جائیں تو یقیناً ہمیں چار چاند لگ جائیں۔اور انہیں خوبیوں میں سے ایک یہ تھی کہ جب وہ کسی کو اپنی پناہ میں لے لیتے تھے تو کوئی شخص اُسے تکلیف نہیں پہنچا سکتا تھا اور اگر پہنچا تا تو اس کے یہ معنی ہوتے تھے کہ اب دونوں میں لڑائی تک نوبت پہنچ جائے گی۔بہر حال حضرت عثمان بن مظعون کو جب اُس نے پناہ دی تو مکہ والوں کے وہ مظالم جو اُن پر جاری تھے بند ہو گئے اور وہ امن سے رہنے لگ گئے مگر ایک دفعہ جب اُنہوں نے کفار کو تبلیغ کی تو اُنہوں نے اس رئیس سے شکایت کی۔رئیس نے اُنہیں بُلا کر سمجھایا اور انہیں نصیحت کی کہ وہ تبلیغ نہ کیا کریں۔اُنہوں نے کہا میں تبلیغ سے نہیں رک سکتا ، تم اپنی پناہ بے شک واپس لے لولے چنانچہ اس نے اپنی پناہ واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ایک دفعہ مجلس میں لبید شاعر جو عرب کے مشہور شعراء میں سے تھے، اپنے شعر سنا رہے تھے۔حج کے دن تھے تمام رؤساء مجلس میں بیٹھے تھے کہ اُنہوں نے شعر سناتے سناتے یہ مصرع پڑھا۔اَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَاخَلَا اللَّـهَ بَاطِلُ سنوسنو ! خدا تعالیٰ کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔عثمان نے کہا یہ درست ہے۔اس پر۔لبید شاعر خفا ہوئے کہ ایک بچہ ہو کر مجھ جیسے انسان کو داد دیتا ہے مگر لوگوں نے اُن کو راضی کر لیا۔اس کے بعد اُنہوں نے دوسرا مصرع پڑھا جو یہ تھا۔