انوارالعلوم (جلد 21) — Page 151
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۵۱ آئندہ وہی قومیں عزت پائیں گی جو مالی و جانی۔۔اس ہاتھ پر پڑتے رہے یہاں تک کہ میرا ہاتھ بالکل بیکار ہو کر ٹنڈا ہو گیا مگر میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کے آگے سے اپنا ہاتھ نہیں ہٹایا۔ایک اور دفعہ کا واقعہ ہے کہ آپ یہ قصہ سنا رہے تھے کہ ایک شخص نے پوچھا۔طلحہ ! جب آپ کے ہاتھ پر چاروں طرف سے تیر پڑتے تھے تو درد نہیں ہوتی تھی ؟ طلحہ نے کہا درد کیوں نہیں ہوتی تھی ، ہوتی تھی مگر میں اسے برداشت کرتا تھا۔پھر اُس نے کہا کیا آپ کے منہ سے آہ نہیں نکلتی تھی ؟ طلحہ نے کہا۔آہ نکلنا تو چاہتی تھی مگر میں آہ کو نکلنے نہیں دیتا تھا تاکہیں میرا ہاتھ پل نہ جائے اور کوئی تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ آ لگے۔پس طلحہ ، طلحہ کس طرح بنا ؟ اُن تکلیفوں کی وجہ سے جو اُنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اٹھائی تھیں۔زبیر، زبیر کس طرح بنا ؟ اُن تکلیفوں کی وجہ سے جو اُنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر برداشت کی تھیں۔حضرت عثمان بن مظعون رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی تھے ، ابتدائی ایام میں وہ آپ پر ایمان لائے۔اُن کے والد مکہ کے ایک بہت بڑے رئیس تھے۔عثمان بن مظعون کی جی عمر تیرہ چودہ سال کی تھی جب وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔ایمان لانے کے بعد کفار کی طرف سے اُن پر قسم قسم کے مظالم کئے گئے اور طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائی گئیں مگر وہ تیرہ چودہ سال کا بچہ ان تکالیف کو بہادری کے ساتھ برداشت کرتا رہا اور تمام تکالیف کو استقلال کے ساتھ اپنی جان پر سہتا رہا اسلام سے اُس نے رُوگردانی اختیار نہ کی۔جب ہجرت حبشہ ہوئی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر کہ تم حبشہ چلے جاؤ حضرت عثمان بن مظعون بھی حبشہ گئے مگر پھر جلد ہی واپس آگئے اور کہا کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر رہ نہیں سکتا۔پھر جب سختیاں اور بڑھ گئیں تو اُنہوں نے دوبارہ یہ ارادہ کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت اور آپ کے ارشاد کے ماتحت کہیں باہر چلے جائیں۔جب وہ مکہ سے باہر جارہے تھے تو انہیں اپنے باپ کا ایک دوست ملا اور اُس نے پوچھا عثمان ! تم مکہ چھوڑ کر کیوں جا رہے ہو؟ اُنہوں نے کہا مکہ کے لوگ رہنے نہیں دیتے۔وہ رئیس اُن کے باپ کا بڑا دوست تھا جب اُس نے عثمان بن مظعون سے یہ بات سنی تو اُن کے باپ کی یاد اور محبت کی وجہ سے اُس کی آنکھوں