انوارالعلوم (جلد 21) — Page 150
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۵۰ آئندہ وہی قومیں عزت پائیں گی جو مالی و جانی۔۔کھل گئیں اور انہوں نے کہا ہاں ! مجھے یہ بات یاد آ گئی ہے اور پھر اُسی وقت لشکر سے نکل کر چلے گئے۔جب وہ لڑائی چھوڑ کر جا رہے تھے تا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پوری کی جائے گی تو ایک بد بخت انسان جو حضرت علیؓ کے لشکر کا سپاہی تھا اُس نے پیچھے سے جا کر آپ کو خنجر مارکر شہید کر دیا۔حضرت علی اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے وہ اس خیال سے کہ مجھے بہت بڑا انعام ملے گا ، دوڑتا ہوا آیا اور اُس نے کہا اے امیر المؤمنین! آپ کو آپ کے دشمن کے مارے جانے کی خبر دیتا ہوں۔حضرت علیؓ نے کہا۔کون دشمن؟ اُس نے کہا۔اے امیر المؤمنین ! میں نے طلحہ کو مار دیا ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا اے شخص! میں بھی تجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بشارت دیتا ہوں کہ تو دوزخ میں ڈالا جائے گا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا ( جبکہ طلحہ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور میں بھی بیٹھا ہوا تھا ) کہ اے طلحہ ! تو ایک دفعہ حق وانصاف کی خاطر ذلت برداشت کرے گا اور تجھے ایک شخص مار ڈالے گا مگر خدا اُس کو جہنم میں ڈالے گا۔اس لڑائی میں جب حضرت علیؓ اور حضرت طلحہ و زبیر کے لشکر کی صفیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی ہوئیں تو حضرت طلحہ اپنی تائید میں دلائل بیان کرنے لگے ( یہ اُس وقت سے پہلے کی بات ہے جب ایک صحابی نے انہیں حدیث یاد دلائی اور وہ جنگ چھوڑ کر چلے گے ) وہ دلائل بیان کر ہی رہے تھے کہ حضرت علی کے لشکر میں سے ایک شخص نے کہا اوٹنڈے ! چپ کر۔حضرت طلحہ کا ایک ہاتھ بالکل شل تھا وہ کام نہیں کرتا تھا۔جب اُس نے کہا۔اوٹنڈے! چپ کر تو حضرت طلحہ نے فرمایا کہ تم نے کہا تو یہ ہے کہ ٹنڈے چپ کر۔مگر تمہیں پتہ بھی ہے کہ میں ٹنڈا کس طرح ہوا ہوں؟ اُحد کی جنگ میں جب مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف بارہ آدمی رہ گئے تو تین ہزار کا فروں کے لشکر نے ہمیں گھیرے میں لے لیا اور اُنہوں نے چاروں طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تیر برسانے شروع کر دیئے۔اس خیال سے کہ اگر آپ مارے گئے تو تمام کام ختم ہو جائے گا اُس وقت کفار کے لشکر کے ہر سپاہی کی کمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کی طرف تیر پھینکتی تھی تب میں نے اپنا تج ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کے آگے کر دیا اور کفار کے لشکر کے سارے تیر میرے