انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 130

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۳۰ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر XXXXXXX میں ڈالا جا رہا ہے جس سے ایک دن ایک بڑی قوم پیدا ہوگی اور وہ جانتا ہے کہ آسمان پر اس بیج بونے کے نتیجہ میں کیسا عظیم الشان انعام مقدر ہے۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہاتھ اُٹھا کر یہ دعا کی تو حضرت ہاجرہ کے دل میں محبہ پیدا ہوا کہ یہ جدائی کسی عارضی کام کے لئے معلوم نہیں ہوتی بلکہ دائمی جدائی معلوم ہوتی ہے۔وہ دوڑتی ہوئی آپ کے پیچھے گئیں اور اُنہوں نے کہا۔ابراہیم ! ابراہیم ! تم ہمیں یہاں کس لئے چھوڑے جا رہے ہو؟ یہ تو عارضی جدائی معلوم نہیں ہوتی۔تم ہمیں جنگل میں اکیلے چھوڑے جا رہے ہو۔ابراہیم دیکھو! تمہارا بیٹا بھوکا مر جائے گا، ابراہیم تمہاری جوان بیوی یہاں موجود ہے اور اس کا بھی تم پر حق ہے۔مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اُن کی طرف نہیں دیکھا کیونکہ ان کی کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔وہ ڈرتے تھے کہ اگر میں نے جواب دیا تو بیتاب ہو جاؤں گا اور رقت مجھ پر غالب آجائے گی اور یہ اُس شان کے خلاف ہو گا جس کا یہ قربانی تقاضا کرتی ہے۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کوئی جواب نہ دیا تو پھر ہاجرہ نے کہا۔ابراہیم ! ابراہیم ! اپنی بیوی اور بیٹے کو کس لئے ایک ایسے جنگل میں چھوڑے جا رہے ہو جس میں ایک دن بھی رہائش اختیار نہیں کی جاسکتی۔بھیڑئیے آئیں گے اور ہمیں ختم کر دیں گے اور اگر بھیڑئیے نہ بھی آئے تب بھی پانی ختم ہو گیا تو ہم کیا کریں گے؟ کھجور میں ختم ہو گئیں تو ہم کیا کریں گے؟ آخر کیوں تم ہمیں یہاں چھوڑے جا رہے ہو؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر بھی اُن کی طرف نہ دیکھا اور زبان سے کوئی جواب نہ دیا۔آخر ہاجرہ نے آگے بڑھ کر اُن کا دامن پکڑ لیا اور کہا۔بتاؤ تم کس پر ہمیں چھوڑے جا رہے ہو؟ کیا خدا پر چھوڑے جا رہے ہو؟ تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا منہ موڑا اور آسمان کی طرف اُنگلی اُٹھا دی۔بولے نہیں کیونکہ جانتے تھے کہ اگر میں بولا تو رقت مجھ پر غالب آ جائے گی۔اُنہوں نے صرف آسمان کی طرف اُنگلی اُٹھا دی جس کا مطلب یہ تھا کہ ہاں خدا پر اور خدا تعالیٰ کے کہنے پر میں یہ کام کر رہا ہوں۔ہاجرہ ایک عورت ہی سہی ، وہ ایک مصری خاتون ہی سہی جس کا ابراہیمی خاندان سے کوئی تعلق نہیں تھا مگر وہ ابراہیمی تربیت حاصل کر چکی تھی ، وہ خدا کا نام سن چکی تھی ، وہ الہی قدرتوں کا مشاہدہ کر چکی تھی جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آسمان کی طرف اُنگلی اُٹھا کر بتایا کہ میں محض خدا تعالیٰ کی خاطر اور اُسی