انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 128

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۲۸ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر انگوروں اور اناروں کے متعلق میں شہادت دے سکتا ہوں کہ ویسے اعلیٰ درجہ کے انگور اور انار میں نے اور کہیں نہیں کھائے۔میں یورپ بھی گیا ہوں، میں شام بھی گیا ہوں ، میں فلسطین بھی گیا کی ہوں، اٹلی کا ملک انگوروں کیلئے بہت مشہور ہے یورپ کے لوگ کہتے ہیں کہ بہترین انگور اٹلی میں ہوتے ہیں مگر میں نے اٹلی کے لوگوں سے کہا کہ مکہ کی وادی غیر ذی زرع میں ابراہیمی پیشگوئی کے ماتحت جو انگور میں نے کھائے ہیں وہ اٹلی کے انگوروں سے بہت زیادہ میٹھے اور بہت زیادہ اعلیٰ تھے۔ہمارے اردگر دقندھار، کوئٹہ اور کابل کا انار مشہور ہے مگر میں نے جو موٹا سرخ شیریں اور لذیذا نارمکہ میں کھایا ہے اُس کا سینکڑواں حصہ بھی قندھار اور کوئٹہ اور کابل کا انا ر نہیں۔غرض حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں۔وارزُقُهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ اے خدا ! میں نے اپنی بندگی کا انتہائی ثبوت دے دیا ہے اب تجھ سے میں کہتا ہوں کہ تو بھی اپنی خدائی کا تی انتہا درجے کا ثبوت دے اور وہ ثبوت میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ یہ نہ کمائیں بلکہ لوگ کما کر ان کے پاس لائیں اور لائیں بھی معمولی چیزیں نہیں بلکہ دنیا بھر کے بہترین پھل اور میوے لعَلَّهُمْ يَشكرون اے میرے رب ! میں احسان کے طور پر نہیں کہتا میں یہ نہیں کہتا کہ اگر ایسا ہوا تب میرا بدلہ اُترے گا یا تب میری اولاد کی قربانی کا بدلہ اترے گا۔میں نے بیشک ایک مطالبہ کیا ہے مگر اس لئے نہیں کہ میں نے کوئی قربانی کی ہے بلکہ میں نے یہ مطالبہ محض اس لئے کیا ہے کہ بندے نے اپنی بندگی کا انتہائی ثبوت دے دیا اب تو بھی اپنی خدائی کا ثبوت دے لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُون تا کہ میری اولا د ایمان پر قائم رہے اور اسے یقین ہو کہ کیسی زبر دست طاقتوں کا مالک وہ خدا ہے جس کی خدمت کے لئے وہ یہاں بیٹھے ہیں۔بظاہر یہ ایک چیلنج معلوم ہوتا ہے کہ دیکھ! میں نے کتنی قربانی کی ، اب تو بھی اپنی خدائی کا ثبوت دے۔مگر میری یہ غرض نہیں کہ تو میرے فعل کی وجہ سے انہیں یہ پھل کھلا بلکہ میری غرض یہ ہے کہ تیرے فعل سے بنی نوع انسان کے اندر ایمان پیدا ہو۔گویا اس میں بھی اصل غرض تیرے نام کی بلندی ہے اپنے ہی نام کی بلندی نہیں۔ربَّنَا انَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ " پھر ابراہیم علیہ السلام کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ بچہ چھوٹا ہے بیوی جوان ہے، یہ میری دوسری بیوی ہے میری بڑی بیوی جو میری