انوارالعلوم (جلد 21) — Page 110
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۱۰ اللہ تعالی سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کامیابی ہے پڑھوائے اور پھر جب مرد گھر آجائے تو وہ یہ کام کرے۔ گویا جب مرد گھر پر ہو تو یہ مرد کی دمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو دینی کاموں کی عادت ڈالے اور اگر مرد گھر نہیں ہے تو عورت اپنے بچوں سے دینی کام کروائے ۔ غرض آپ لوگ اپنی اولاد کی اس رنگ میں تربیت کریں اور اپنے اندر ایسا تغیر پیدا کریں کہ تمہاری شکلوں کو دیکھ کر ہر شخص یہ سمجھ سکے کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے احیاء دین کا ذریعہ جماعت احمد یہ کو بنایا ہے اور خدا تعالیٰ سے ایسی محبت پیدا کرو کہ اسے تمہارے متعلق غیرت ہو اور وہ محسوس کرے کہ اگر یہ لوگ مر گئے تو میں مرا ۔ خدا تعالیٰ حی و قیوم ہے اُس پرموت وارد نہیں ہوتی لیکن اس دنیا میں اگر اُس کا ذکر مٹ جائے تو گویا وہ اس دنیا کے لئے مر گیا۔ ایک بزرگ جو سید احمد صاحب بریلوی بریلوی کے شاگردوں میں سے تھے اور بھو پال میں رہتے تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے استاد تھے اُنہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کو اپنی ایک خواب سنائی کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں بھو پال سے باہر گیا ہوا ہوں ۔ شہر کے باہر پل پر میں نے ایک آدمی دیکھا جو کوڑھی تھا اور اندھا تھا۔ اُس کے زخموں سے بد بو آتی تھی اور اُن پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں ۔ اُس کے ہونٹ ، ناک اور کان کٹے ہوئے تھے۔ غرض اُس کے جسم کا ہر ذرہ بھیانک تھا۔ میں نے اُس شخص سے پوچھا تم کون ہو؟ یا اُس نے کہا میں خدا تعالیٰ ہوں ۔میری حالت متغیر ہوگئی اور میں یہ نہ سمجھ سکا کہ یہ شخص خدا تعالیٰ کیسے ہو سکتا ہے۔ میں نے اُس شخص سے کہا کہ قرآن کریم تو کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے زیادہ خوبصورت اور کوئی چیز نہیں ۔ اس پر اس نے کہا میں بھو پال کے رہنے والوں کا خدا ہوں یعنی بھو پال والوں نے میری یہ شکل بنا رکھی ہے۔ پس گوموت ایسی چیز ہے جو خدا تعالیٰ کی ذات میں نہیں پائی جاتی مگر بعض بندوں کے ذریعہ خدا تعالیٰ اس دنیا میں زندہ ہے اور بعض بندوں کے ذریعہ وہ اس دنیا میں مردہ ہے ۔ اگر اُس کا ذکر اس دنیا سے مٹ جائے تو وہ اس دنیا کے لئے گویا مر گیا اور اگر اُس کا ذکر اس دنیا میں نہ مٹے تو وہ گویا اس دنیا کے لئے زندہ ہو گیا ۔ اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر چہ ظاہری طور پر وفات پا گئے ہیں لیکن آپ ایمان لانے والوں کے ذریعہ اس دنیا میں زندہ ہو سکتے ہیں ۔ اگر مسلمانوں کے دلوں میں ایمان ہے تو وہ زندہ ہیں اور اگر ایمان مٹ چکا ہے تو