انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 109

انوار العلوم جلد ۲۱ 1+9 ۱۰۹ اور اللہ تعالیٰ سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کا کامیابی ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ۳۰ یا ۴۰ سال کا اضافہ کر دے۔لیکن جو شخص اپنی اولاد کی اصلاح نہیں کرتا ، اُسے پکا مسلمان نہیں بناتا ، وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو کم کر دیتا ہے اور یہ کتنی بڑی بدبختی ہے۔پس تم نہ صرف اپنے اندر ایک نیک تغیر پیدا کرو بلکہ اپنی اولاد کے اندر بھی دینی جذبہ پیدا کرو۔جب نماز کے لئے جاؤ تو بچوں کو بھی ساتھ لے جاؤ۔اگر وہ چھوٹے ہیں تو کم از کم تمہارے ساتھ نماز پڑھتے وقت خاموش تو رہیں تمہاری نماز کو خراب تو نہ کریں۔جیسے کل بچوں نے شور مچا کر نماز کو خراب کر دیا تھا۔بچوں کی تربیت ہونی چاہئے۔اگر بچہ چار پانچ سال کا ہے تو اس کے اندر دینی کاموں میں حصہ لینے کی عادت پیدا کرو اور سات سال کے بچے کو تو با قاعدہ نماز پڑھانی چاہئے اور دستی سال کی عمر میں اسے نماز میں ایسا با قاعدہ ہونا چاہئے کہ اگر وہ نماز نہ پڑھے تو ایک حد تک اُسے مار پیٹ بھی جائز ہے۔بہر حال جب بچہ چھ سات سال کا ہو جائے اُسے نماز پڑھانی چاہئے اور دینی کاموں میں حصہ لینے کی عادت ڈالنی چاہئے اگر اُسے کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تو نہ آئے۔جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس کے دائیں کان می میں اذان دو اور اس کے بائیں کان میں تکبیر کہو۔لے تو کیا وہ تمہاری اذان اور تکبیر کو سمجھتا ہے؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے یہی سبق دیا ہے کہ تم بچے کی تربیت اس کے پیدائش کے وقت سے ہی شروع کر دو۔جب آپ بچے کی پیدائش کے وقت سے اُس کی تربیت کا حکم صادر فرماتے ہیں تو چھ سات سال کی عمر والا کچھ کتنی اہمیت رکھتا ہے۔جب بچہ چھ سات سال کا ہو جائے تو اُسے نمازوں میں ساتھ لاؤ۔اُسے آیات قرآنیہ یاد کراؤ۔اچھی اچھی نظمیں کی یاد کرا ؤ۔جب آٹھ سال کا ہو جائے تو اُس کی اِس طرح تربیت کرو کہ وہ دینی کاموں پر آمادہ ہو جائے۔اسی طرح ماؤں کا بھی فرض ہے کہ اگر باپ سارا دن دفتر میں رہتا ہے یا کہیں باہر گیا تھ ہوا ہے تو اُس کی غیر حاضری میں عورت کا فرض ہے کہ وہ بچے کو نمازیں پڑھائے۔جب وہ نماز کی پڑھنے لگے تو بچے کو بھی ساتھ کھڑا کرے یا اُسے اپنی نگرانی میں نمازیں پڑھوائے۔کیونکہ بعض اوقات شرعی طور پر اسے نماز پڑھنا جائز نہیں ہوتا۔لیکن اگر وہ خود نماز نہیں پڑھتی تو بچے کو تو اپنی نگرانی میں نماز پڑھوا سکتی ہے۔نماز کا جب وقت آئے اُسے چاہئے کہ بچے کو کھڑا کر کے نماز