انوارالعلوم (جلد 21) — Page 105
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۰۵ اللہ تعالیٰ سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کا کامیابی ہے قائم کردہ سلسلہ کی بنیاد مادیات پر نہیں ہوتی۔پس میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کروں گا کہ وہ اپنے اندر محبت الہی پیدا کریں۔اس طرح کہ خدا تعالیٰ کو ان کے متعلق غیرت پیدا ہو جائے۔وہ خدا تعالیٰ کی عبادت میں ترقی کریں۔خشیت الہی میں ترقی کریں، تہجد پڑھنے کی عادت ڈالیں اور اس بارہ میں ایک دوسرے کی نگرانی کریں ، نمازوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کی عادت ڈالیں اور ان کا خدا تعالیٰ کے ساتھ جو تعلق ہے اُسے مضبوط بنا ئیں۔یہ خیال کر لینا کہ وہ ان چیزوں کے بغیر ہی جیت جائیں گے غلط ہے۔جیتنا تو خدا تعالیٰ نے ہے اور جب تک خدا تمہارے اندر نہیں آجا تا تم غالب نہیں آ سکتے اور اگر خدا تمہارے اندر آ جاتا ہے تو یقیناً تم غالب آ جاؤ گے اور اگر وہ تمہارے اندر نہیں آتا تو تم غالب نہیں آسکتے کیونکہ غلبہ خدا تعالیٰ کے لئے مقدر ہے۔دوسری بات جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جب میں پچھلی دفعہ راولپنڈی آیا تو یہاں لجنہ اماءاللہ قائم نہیں تھی اور اگر قائم تھی تو وہ مردہ حالت میں تھی۔اب مجھے بتایا گیا ہے کہ عورتوں میں بیداری پائی جاتی ہے۔یہ بھی مردوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عورتوں کو لجنہ اماءاللہ میں شامل کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ گھر کی کی ذمہ داری مردوں پر ہے اگر مرد اس ذمہ داری کو ادا نہیں کرتے تو قیامت کے دن اس کے متعلق ان سے سوال کیا جائے گا۔آپ فرماتے ہیں۔كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رعِيَّتِه لے تم میں سے ہر ایک اپنے گھر کا نگران ہے اور اُس کے گھر میں جوا فرادر ہتے ہیں اُن کے متعلق اُس سے قیامت کے دن سوال کیا جائے گا۔قیامت کے دن ایک عورت سے بھی یہ کی سوال کیا جائے گا کہ اُس نے دین کی خاطر کیا کیا قربانیاں کیں۔اور مرد سے بھی یہ سوال کیا جائے گا کہ اُس نے اس سے کیا کیا قربانیاں کروائیں۔ایک بیٹے کے متعلق ماں سے بھی سوال کیا جائے گا کہ اس نے اپنے بیٹے سے کیا کیا قربانیاں کروائیں مگر ساتھ ہی باپ سے بھی یہ سوال کیا جائے گا کہ اس نے اس بارہ میں کیا کچھ کیا کیونکہ بچوں کی دمہ داری جیسے عورتوں پر ہے ویسے ہی ان کی ذمہ داری باپوں پر ہے۔پس میں جماعت کے مردوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی عورتوں کو لجنہ اماءاللہ میں شامل کریں اور ان کی اور اپنے بچوں کی اچھی طرح نگرانی کریں