انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 101

انوار العلوم جلد ۲۱ 101 اللہ تعالیٰ سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کا مہ ہماری کامیابی ہے یہ چیز ان میں ابتدائی زمانہ میں پیدا ہو گئی تھی۔کسی مامور کی جماعت میں ایمان اور روحانیت میں مضبوطی اُس کے قریب قریب کے عرصہ میں ہی پائی جاتی ہے اور جتنا لمبا عرصہ گزرتا جاتا ہے کہ یہ چیزیں کمزور ہوتی جاتی ہیں۔ہماری جماعت کی ترقی کا زمانہ بھی یہی ہے اس لئے تم اللہ تعالیٰ کی سے تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرو۔تم دو ہی چیزوں کے ساتھ کامیاب ہو سکتے ہو۔اول محبت الہی کے ساتھ۔محبت الہی کے لئے سامانوں کی ضرورت نہیں بلکہ ضروری ہے کہ تم اپنے اوپر دنیا وَمَا فِيها تاریک بنا اور اس سے جدا رہ کر اپنی زندگی بسر کر و۔دوم وہ ذرائع ہیں جو قرآن کریم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہیں۔مثلاً نمازیں ہیں ، وظائف ہیں ، ذکر الہی ہے، خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنا ہے، اُس کے حضور گریہ وزاری کرنا اور اُس کے حضور عرض کرنا کہ وہ ہمارے افکار اور اعمال اور ذہنوں کی اصلاح کرے۔یہی وہ ذرائع ہیں جن کے ساتھ تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اُس کی محبت حاصل کر سکتے ہو۔اس کے ساتھ ہی تم حتی المقدور قربانی میں ترقی کرنے کی کوشش کرو۔تمہارا قدم ہر وقت آگے کی طرف پڑے پیچھے نہ ہٹے۔جو شخص ایسا نہیں کرتا اُس کا قدم پیچھے کی طرف آتا ہے۔یہ قانونِ قدرت ہے کہ اگر تمہارا قدم آگے کی طرف نہیں بڑھے گا تو وہ پیچھے ہٹے گا۔تم ایک حالت پر کبھی قائم نہیں رہ سکتے۔یہ دنیا متحرک ہے اس لئے تم یا آگے بڑھو گے یا پیچھے ہٹو گے ایک جگہ پر کھڑے نہیں رہ سکتے۔ایک دفعہ لندن کی نمائش میں میں گیا وہاں ایک چکر بنا ہوا تھا جو چلتا رہتا تھا۔نمائش والوں نے اعلان کیا ہوا تھا کہ جو شخص اس چکر کے سنٹر کو ہاتھ لگا دے اُسے انعام دیا جائے گا۔یہ اُسی وقت ہوسکتا تھا جب انسان کچھ دیر ٹھہرے۔میرے ایک ساتھی نے ایسا کرنے کی کوشش کی مگر جب بھی وہ ایسا کرنے کی کوشش کرتا چکر اُس کو دھکا دے کر پیچھے پھینک دیتا تھا۔اس دنیا کی مثال بھی اس چکر کی سی ہے۔کوئی شخص ایک جگہ پر تک نہیں سکتا۔ہم یا آگے بڑھیں گے یا پیچھے ہیں گے۔یہ دنیا ایک مقام پر ٹھہرنے کا مقام نہیں۔نہ تم دنیوی لحاظ سے ایک جگہ پر ٹھہر سکتے ہو نہ روحانی لحاظ سے ایک جگہ پر ٹھہر سکتے ہو۔دینی امور میں بھی اور مادی امور میں بھی یا تو تم ترقی کرو گے یا تم گرو گے۔یہی وجہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن کو قرب الہی میں سب سے بڑا مقام حاصل تھا آپ کو خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ ہمیشہ یہ دعا کرتے رہیں کہ رَبِّ زِدْنِی