انوارالعلوم (جلد 21) — Page 99
انوار العلوم جلد ۲۱ 99 اللہ تعالیٰ سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کا مہ کامیابی ہے لگے۔اَشْهَدُ اَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوله۔انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اگر بنو ہاشم کے خاندان اور قریش کے دوسرے خاندانوں نے میرے بیٹے کی بیعت کر لی ہے تو یقیناً محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچے نبی تھے جنہوں نے ایسا عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا۔تو دیکھو بادشاہت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر ہی نہیں آپ کے خادموں کے قدموں پر بھی آگری لیکن آپ نے نہ اُس وقت خواہش کی جب آپ کو ابھی بادشاہت نہیں ملی تھی اور نہ اُس وقت خواہش کی جب آپ کو بادشاہت مل گئی۔نہ حضرت ابو بکر نے بادشاہت کی ی خواہش کی ، نہ حضرت عمرؓ نے بادشاہت کی خواہش کی ، نہ حضرت عثمان نے بادشاہت کی خواہش کی اور نہ حضرت علیؓ نے بادشاہت کی خواہش کی بلکہ ان میں بادشاہت کے آثار پائے ہی نہیں جاتے تھے حالانکہ وہ دنیا کے اتنے زبردست بادشاہ تھے جن کی تاریخ میں مثال ہی نہیں ملتی۔ان کی طبائع اتنی سادہ تھیں ، ان کی ملاقاتیں اتنی سادہ تھیں، ان میں تو اضع اس قدر پایا جاتا تھا کہ ظاہری طور پر یہ بھی معلوم نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ بادشاہ ہیں۔ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ میری حکومت ہے، میں بادشاہ ہوں۔ان میں سے کوئی شخص بھی کبھی اس بات پر آمادہ نہیں ہوا کہ وہ اپنی بادشاہت کا اظہار کرے اور نہ ہی وہ اس بات کی کبھی خواہش کرتے تھے۔در حقیقت جو خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں دنیا خود اُن کے قدموں پر آ گرتی ہے۔لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ بادشاہتوں سے اُنہیں مدد ملے گی لیکن جو خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں بادشاہتیں سمجھتی ہیں کہ انہیں ان کی غلامی سے عزت ملی گی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہر جماعت یا ہر فرد کی ترقی دو چیزوں کے ساتھ وابستہ ہے اوّل یہ کہ اُس کے پاس مادی سامانوں کی فراوانی ہو۔دوم اُسے خدا تعالیٰ مل جائے۔جہاں تک مادی سامانوں کا تعلق ہے یہ صاف ظاہر ہے کہ مادیات کے ساتھ ترقی کرنا ہمارے دعوئی کے خلاف ہے۔خدا تعالیٰ کے ماموروں کی جماعتیں مادیات کے ساتھ ترقی نہیں کیا کرتیں۔اگر وہ مادیات کے ساتھ ترقی کرتیں تو مخالف یہ کہنے کا حق رکھتا کہ ان کا ترقی کرنا ان کی سچائی کی علامت نہیں مادی سامانوں کے ذریعہ تو ہر ایک ترقی کر سکتا ہے۔پھر ان میں اور دوسری جماعتوں میں کیا فرق رہا۔غرض اول تو ہمارے پاس مادی سامان ہیں ہی نہیں اور اگر مادی