انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 98

انوار العلوم جلد ۲۱ ۹۸ اللہ تعالیٰ سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کامیابی کامیابی ہے اے عبدالقادر جیلانی ! تم یہ کھانا کھا لو۔اور میں کوئی کپڑا نہیں پہنتا جب تک خدا تعالیٰ خود مجھ سے نہیں کہتا کہ اے عبدالقادر جیلانی! تم یہ کپڑا پہن لو۔غرض جو شخص خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے خدا تعالیٰ دنیا خود اُس کے قدموں میں لا ڈالتا ہے تا کہ وہ ظاہر کرے کہ مؤمنوں کو یہ چیزیں دنیوی ذرائع سے حاصل نہیں ہوتیں بلکہ جو میرا بن جاتا ہے میں خود اُ سے یہ چیزیں دیتا ہوں۔آپ دیکھیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیاوی بادشاہت کو حاصل کرنے کے لئے ایک منٹ کے لئے بھی خواہش نہیں کی لیکن خدا تعالیٰ نے وہ بادشاہت آپ کے قدموں پر بلکہ آپ کے خادموں کے قدموں پر لا کر ڈال دی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو آپ کے بعد حضرت ابو بکر آپ کے خلیفہ مقرر ہوئے۔حضرت ابو بکر قریشی تو تھے مگر آپ قریش کے ان لوگوں سے تعلق نہیں رکھتے تھے جو مکہ کے رئیس گنے جاتے تھے اور جن کی فرمانبرداری اور اطاعت کو عرب فخر محسوس کرتے تھے۔آپ کے والد ابو قحافہ معمولی آدمی تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ابتداء میں ایمان نہیں کی لائے تھے۔جب حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے تو مکہ میں یہ اطلاع پہنچی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں۔یہ خبر سن کر لوگ گھبرا گئے کہ اب کیا ہو گا۔اُنہوں نے پیغامبر سے پوچھا پھر کیا ہوا ؟ اُس نے جواب دیا کہ ایک خلیفہ چن لیا گیا ہے۔ان لوگوں میں حضرت ابو بکر کے والد ابوقحافہ بھی تھے۔انہوں نے دریافت کیا کہ کون خلیفہ چن لیا گیا ہے؟ اس نے کہا ابو بکڑ۔آپ کے والد نے پھر پوچھا کون ابو بکر۔آپ کے والد صاحب اپنی کمزوری کی وجہ سے یہ خیال کرتے تھے کہ رؤساء کسی صورت میں بھی اُن کے بیٹے ابو بکر کی بیعت نہیں کر سکتے۔وہ مر جائیں گے لیکن ابو بکر کی بیعت نہیں کریں گے اس لئے جب اُنہوں نے سنا کہ ابوبکر خلیفہ چن لئے گئے ہیں تو کہنے لگے کون ابو بکر ؟ اس پیغا مبر نے کہا ابو قحافہ کا بیٹا۔انہیں پھر بھی یقین نہ آیا۔انہوں نے پوچھا کون ابو قحافہ؟ اُس نے کہا تم اور کون؟ وہ کہنے لگے کیا میرا بیٹا ابوبکر چن لیا گیا کی ہے؟ کیا فلاں قبیلہ نے اُس کی بیعت کر لی ہے؟ پیغامبر نے کہا ہاں۔پھر انہوں نے دریافت کیا کیا فلاں قبیلہ نے اُس کو خلیفہ مان لیا ہے؟ پیغا مبر نے کہا ہاں۔یہ سن کر اُن پر یہ بات حل ہو گئی کہ اتنا بڑا تغیر صرف ایک نبی ہی پیدا کر سکتا ہے اور وہ بے اختیار ہو کر کہنے