انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 95

انوار العلوم جلد ۲۱ ۹۵ اللہ تعالیٰ سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کا مہ ری کامیابی ہے چیزیں میسر ہو بھی جائیں تو دولتوں کے حاصل کرنے کے لئے صدیوں کی ضرورت ہے۔امریکہ نے جو دولت حاصل کی ہے اس پر بھی ایک لمبا عرصہ صرف ہوا ہے۔اس کے پاس کا نہیں تھیں، مٹی کا تیل تھا ، لوہے کی مائنز تھیں اور مختلف قسم کے سامان اُسے میسر تھے مگر اس نے یہ دولت ڈیڑھ سو سال کے عرصہ میں حاصل کی۔امریکہ کو ۱۷۸۰ء میں آزادی حاصل ہوئی تھی۔ایک سو ساٹھ سال کی آزادی میں امریکہ اس حالت تک پہنچا ہے لیکن پاکستان تو اتنا مضبو ط ملک نہیں کہ اس سے دوسری بڑی طاقتیں مرعوب ہو جائیں اور نہ ابھی اس کے قیام پر کوئی لمبا عرصہ گزرا ہے۔اب صرف ایک ہی صورت باقی ہے جس کی وجہ سے ہم اپنی حالت کو برقرار رکھ سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کو اپنے ساتھ ملالیں اور اس میں کسی لمبی دیر کی ضرورت نہیں۔بعض مانی دفعہ تو اس پر ایک سیکنڈ بھی نہیں لگتا بشر طیکہ اُسے ساتھ ملانے کا صحیح طریق اختیار کیا جائے۔صوفیاء نے لکھا ہے کہ کوئی شخص تھا اُس نے جب دیکھا کہ روحانی آدمیوں کا لوگ بہت زیادہ ادب و احترام کرتے ہیں تو اُس نے بھی دنیا داری کو چھوڑ دیا اور زاہد بن گیا۔وہ سارا دن مسجد میں بیٹھا رہتا، نمازیں پڑھتا اور وظیفے کرتا رہتا لیکن جب بھی وہ مسجد سے باہر نکالتا لوگ کہتے دیکھو! وہ منافق جا رہا ہے۔یہ آدمی وجاہت پسند اور دنیا دار ہے لیکن دوسرے لوگوں کو دھوکا ہے دینے کے لئے اس نے اپنی یہ حالت بنا رکھی ہے۔دس سال کا لمبا عرصہ گزر گیا لیکن اُس کی یہ امید کہ وہ دنیا کی نظر میں بزرگ تسلیم کیا جائے پوری نہ ہوئی۔ایک دن وہ جنگل میں گیا۔اُس نے اپنے دل میں کہا احمق ! تو نے اپنی عمر کے دس سال ضائع کر دیئے اور لوگوں کی نظر میں کی بار بار لعنتی بنا۔آ اور باقی عمر کو اب خدا تعالیٰ کی خاطر اُس کے کاموں میں لگا دے لوگ تجھے بزرگ سمجھیں یا نہ سمجھیں تو سچے طور پر خدا تعالیٰ کی عبادت کر اور اُسی کا بن جا۔لوگ تجھے خواہ ریا کا رکہیں تو اُن کی طرف توجہ نہ کر اور اپنا کام کرتا چلا جا اور اپنے خدا کو راضی کر لے۔چنانچہ اس شخص نے اُسی وقت ریا کاری اور دکھاوے کو چھوڑ دیا۔وضو کیا اور خدا تعالیٰ کے سامنے سجدے میں گر گیا اور اُسے رو رو کر دعائیں کیں کہ اے خدا! تو میرے پچھلے گناہ معاف کر دے۔خواہ لوگ مجھے پر لعنتیں ڈالیں یا اور کچھ کہیں میں صرف تیری رضا چاہتا ہوں۔توبہ کی اور پھر شہر کی طرف آیا اور مسجد میں گیا اور نماز پڑھی اور خدا تعالیٰ کے حضور گڑ گڑایا۔نماز سے فارغ ہو کر