انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 86

انوار العلوم جلد ۲۱ ۸۶ ہر عبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوتوں کے مواقع پر تین تقاریر اسلام کو اکٹھا کرنے والی خلافت تھی جس سے اس زمانہ کی مسلمان حکومتیں محروم ہیں۔کونسا مسلمان ملک ہے جو اپنے بادشاہ کو خلیفہ کا خطاب دے سکے۔اگر عراق اپنے آپ کو خلافت کا خطاب دے۔اگر شام اپنے آپ کو خلافت کا خطاب دے یا دوسرے ممالک مثلاً سعودی عرب، شرق اردن ، ایران، افغانستان یا پاکستان اپنے آپ کو خلافت کا خطاب دے تو فوراً دوسرے ممالک اُس کے خلاف ہو جائیں گے اور وہ اپنے مُلک اُس کے قبضہ میں دینے سے انکار کر دیں گے۔وہ چیز جو آج مسلمانوں کو اکٹھا کر سکتی ہے وہ صرف اتحاد ہے۔اور تو اور ہماری علمی زبان میں بھی بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ہمارے بعض ادیب نئی نئی طرزوں اور طریقوں کے ایجاد کرنے میں بہت خوشی محسوس کرتے ہیں اور کہیں کے کہیں چلے جاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم اپنی علمی زبان کو ہی ایک طرز پر چلانے کی کوشش کرتے تو آج ہم میں اختلاف نہ پایا جاتا۔ہم مسلمانوں نے اُردو زبان میں عربی اور فارسی کے الفاظ ملانے کی کوشش کی اور ہندوؤں نے سنسکرت کے الفاظ گھسیڑنے کی کوشش کی اور اس طرح ہمارے آپس کی رقابت نے بڑھتے بڑھتے یہ رنگ اختیار کر لیا کہ اُس نے ہمارے دلوں کو پھاڑ دیا۔بہر حال ہمارے اندر کوئی نہ کوئی کچھ ایسی چیز پائی جانی چاہئے جسے دیکھ کر ہر شخص کہہ سکے کہ یہ فلاں ملک سے تعلق رکھتا ہے۔مثلاً یورپین اقوام کو لے لو اُن کے لباسوں کو دیکھ کر فوراً دیکھنے والا پہچان لیتا ہے کہ یہ شخص فلاں ملک سے تعلق رکھتا ہے۔پس میں ضمنی طور پر آپ لوگوں سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کوشش کریں کہ ہمارے اندر کوئی نہ کوئی ایسی چیز پائی جائے جسے دیکھ کر ہر شخص کہہ سکے کہ یہ پاکستانی ہے۔کسی مجلس میں ہم چلے جائیں وہ فوراً ہمیں پہچان کر کہہ دے کہ ہم پاکستان سے آئے ہیں جیسے یوروپین لوگوں کو فوراً پہچان لیا جا تا ہے۔غیر مطبوعہ از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ ) ہر : HERR۔جرمن زبان میں مسٹر کے لئے HERR کا لفظ بولا جاتا ہے۔ابوداؤد كتاب اللباس باب في لبس الشهرة سنن ابی داؤد كتاب الصلواة باب تسوية الصفوف