انوارالعلوم (جلد 21) — Page 84
انوار العلوم جلد ۲۱ ۸۴ ہرعبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوتوں کے مواقع پر تین تقاریر بہر حال ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ کوئی شخص ہمارے ملک میں آ کر اپنا لباس پہنے۔میں نے کہا اگر ہمارے ملک میں جا کر آپ کو اپنا لباس پہننے کا حق ہے تو یہ حق ہمیں بھی ملنا چاہئے۔اگر دوسرے شخص کی دلداری مقصود ہوا اور اس لئے لباس بدلنا ہو تو پھر دونوں کو اپنا لباس تبدیل کرنا چاہئے۔اگر آپ کہتے ہیں کہ ہم آپ کے ملک میں آ کر اپنا لباس بدل دیں تو آپ کا بھی فرض ہے کہ جب ہمارے ملک میں جائیں تو اپنا لباس بدل دیں اور شلوار اور پگڑی پہنیں۔جس بات کی تی نسبت آپ اپنی طرف کرنا پسند نہیں کرتے اُس کی نسبت ہماری طرف کرنا آپ کیسے پسند کرتے ہیں۔اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ہم گھاٹے میں رہیں۔اُنہوں نے کہا میں نے یہ تو نہیں کہا۔میں کی نے کہا جب ہم ایک ہی جیسے ہیں تو جو چیز آپ مجھ سے کروانا چاہتے ہیں وہ چیز آپ اپنے لئے کی پسند کیوں نہیں کرتے ؟ اگر آپ کو اپنی حکومت کا غرور ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ ہم غلام ہیں اس لئے آپ کے لئے مناسب نہیں کہ ہمارا لباس پہنیں تو میں تو آپ کا غلام نہیں ہوں۔میں نے اُسے بتایا کہ میں پتلونیں ساتھ لایا تھا لیکن اب جبکہ مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ آپ کا یہ رویہ غرور کی وجہ سے ہے تو میں اب وہ نہیں پہنوں گا۔غرض وہ لوگ مجھے نگا کہتے رہے لیکن میں نے اپنا لباس نہ چھوڑا۔پس ہمارے اندر خود داری کا احساس ہونا چاہئے اور ہمیں اپنی قومی پوزیشن کو قائم رکھنا چاہئے تا کہ دوسرے لوگ ہماری اتباع کریں۔اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہمارا مستقبل کسی صورت میں روشن نہیں ہو سکتا اس لئے کہ ہمارے اندر بلند خیالی نہیں پائی جاتی۔ہماری قومی روح کو کچلنے کے لئے انگریزوں نے ہمارے تاریخی واقعات کو بگاڑ کر پیش کیا ہے۔وہ بادشاہ تو کی زندہ نہیں تھے لیکن اُن کی غرض یہ تھی کہ وہ ہمارے ماضی کی روایات کو غلط رنگ میں پیش کریں تا قومی روایات اپنے صحیح رنگ میں ہمارے سامنے نہ رہیں اور اس کی وجہ سے ہمارا مستقبل پست ہوا اور ہم کوئی ترقی نہ کر سکیں۔آپ لوگ کسی ملک میں چلے جائیں آپ دیکھیں گے کہ سارے کے سارے ملک کا لباس ایک ہی طرح کا ہوگا۔ہاں تھوڑا بہت فرق ضرور ہو گا۔کوئی شخص کالے رنگ کا سوٹ پہنے ہوئے ہوگا اور کوئی سفید رنگ کے لباس میں ملبوس ہو گا۔کسی کے ہیٹ کا چھجا چھوٹا ہوگا اور کسی کے ہیٹ کا چھا بڑا ہوگا لیکن سارے کے سارے ملک کا لباس ایک ہی قسم کا