انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 82

انوار العلوم جلد ۲۱ جائیں گے۔ہرعبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوتوں کے مواقع پر تین تقاریر یہ تو اُن لوگوں کا حال ہوا باقی میں آپ لوگوں کو بھی کہوں گا کہ اگر یورپ میں باوجود مادیت کے ایسے نوجوان پیدا ہوتے ہیں جو اسلامی لباس کو اپنا لیں ، اُس کی تعلیم کو اپنالیں اور اُس پر عمل کریں۔اگر یورپ میں ایسی عورتیں پائی جاتی ہیں جو اسلام کو اپنالیں اور وہ اُس کی تعلیم پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں تو ہم لوگوں کے لئے جو نسلی مسلمان ہیں یہ کتنا افسوسناک امر ہے کہ ہم اسلام کے مطابق عمل نہ کریں اور ایسا نمونہ پیش نہ کریں جس سے دوسرے لوگ سبق حاصل کریں بلکہ ہم اُس سے دُور جانے اور اسلامی تمدن کے خلاف چلنے کی کوشش کریں۔آپ کی نے دیکھا ہے کہ مسٹر کنزے نے اپنا لباس تبدیل کر لیا ہے اور انہوں نے ظاہری طور پر بھی اپنے آپ کو اسلام کے مطابق بنانے کی کوشش کی ہے۔ان کا لباس ہم نے نہیں بدلوایا انہوں نے اپنا لباس خود ہی تبدیل کیا ہے۔یہ اسلام لائے اور انہوں نے مسلمانوں کو دیکھا کہ وہ داڑھی رکھتے ہیں تو انہوں نے پوچھا یہ کیا ؟ انہیں بتایا گیا کہ مسلمان داڑھی رکھا کرتے ہیں اس پر انہوں نے بھی داڑھی رکھ لی۔مسٹر کنزے جب کراچی آئے اُس وقت یہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے مکان پر انہیں ملنے کے لئے گئے۔چوہدری صاحب نے مجھے بتایا کہ میں کہیں باہر گیا ہوا تھا جب میں گھر واپس آیا اور اُس کمرے میں داخل ہوا جس میں مسٹر کنزے اور چند اور دوست بیٹھے ہوئے تھے تو میں انہیں پہچان نہ سکا۔ان کا لباس بھی اسلامی تھا اور دوسروں کا لباس بھی کی اسلامی تھا۔میں حیران تھا کہ میں اِن سب میں سے کس کو مسٹر کنزے سمجھوں کیونکہ مجھے سبھی کی مسلمان نظر آتے تھے۔جب مجھے بتایا گیا کہ یہ مسٹر کنزے ہیں تب مجھے ان کا علم ہوا۔غرض ی انہوں نے اپنے لباس کو بھی اسلامی بنالیا ہے اگر چہ اسلام میں کسی مخصوص لباس کی شرط نہیں۔بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ، جو شخص کسی قوم کی نقل کرتا ہے وہ انہی میں سے ہوتا ہے۔چاہے لباس اسلام کا کوئی حصہ نہیں لیکن پھر بھی ان کے لباس بدلنے سے یہ بات تو معلوم ہوتی ہے کہ ان کے اندر غیرتِ اسلامی پائی جاتی ہے لیکن ہم لوگ بڑی بے تکلفی سے دوسروں کی نقل کرنے لگ جاتے ہیں۔میں جب ۱۹۲۴ء میں انگلینڈ گیا اُس وقت سردی کے خیال سے میں چند علی گڑھی طرز کے