انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 81

انوار العلوم جلد ۲۱ ۸۱ ہر عبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوتوں کے مواقع پر تین تقاریر سے انہیں مزید تعلیم نہ دے سکے اور ہم نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ وہ یہاں رہیں بلکہ واپس انگلینڈ چلے جائیں اور کام کریں۔ جتنی تعلیم اُنہوں نے حاصل کی ہے اتنی ہی کافی ہے اور اگر کوئی کسر رہ گئی تو وہاں ہمارے مشنری پوری کر دیں گے۔ چنانچہ میں نے انہیں انگلینڈ بھیج دیا اور اُن کی شادی کی تجویز رہ گئی ۔ اب میں نے ان پر زور دیا کہ وہ وہاں شادی کر لیں ۔ انگریز نو مسلم جو اب تک اسلام میں داخل ہوئے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ رسوم کو اسی طرز پر جاری رکھیں جس طرز پر پہلے ہوا کرتی ہیں۔ خربوزہ خربوزے سے رنگ پکڑتا ہے۔ بشیر احمد آرچرڈ انگلینڈ گئے تو انہیں دیکھ کر باقی انگریز نو مسلموں کی روحانی حالت بھی بدلنی شروع ہوئی ۔ مبلغ تو ہمارے وہاں دیر سے گئے ہوئے ہیں لیکن وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ ہندوستانی ہیں ان کی تہذیب علیحدہ ہے، ان کا تمدن علیحدہ ہے، یہ لوگ تو ایسا کام کرنے کے عادی ہیں اس لئے وہ اُن کی قربانیوں کو دیکھ کر ان کی طرف توجہ نہیں کرتے تھے لیکن جب بشیر احمد آرچرڈ وہاں گئے اور اُن کی قربانیوں کو باقی انگریز نو مسلموں نے دیکھا تو اُن میں بھی روحانیت پیدا ہونی شروع ہوئی ۔ بشیر احمد آرچرڈ مالی لحاظ سے غریب ہیں کیونکہ ہم اپنے مبلغوں کو بہت کم گزارہ دیتے ہیں اس لئے انہیں بھی بہت کم گزارہ ملتا ہے۔ ہم نے یہ تجویز کی کہ وہ ایک انگریز نو مسلمہ کے ساتھ جن کے والد مالی دنیا میں اعلیٰ حیثیت رکھتے ہیں اور ایکسچینچ کے ممبر ہیں شادی کر لیں ۔ انگلستان میں جو شخص ایکسچینج کا ممبر ہوتا ہے اُس کی وہی شان ہوتی ہے جو پارلیمنٹ کے ایک ممبر کی ہوتی ہے۔ ہم نے تجویز کی کہ بشیر احمد آرچرڈ اُس کی لڑکی کے ساتھ شادی کر لیں ۔ بشیر احمد آرچرڈ نے کہا میں اسلامی طرز پر ہی شادی کر سکتا ہوں اور کسی قسم کی کورٹ شپ وغیرہ نہیں ہو گی لیکن لڑکی کا باپ اس بات پر راضی نہ تھا اب اطلاع آئی ہے کہ خیر اللہ ویلز لڑکی کے والد نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اسلامی طرز پر ہی لڑکی کا نکاح کریں گے اور اب جلد ہی اُن کی شادی ہو جائے گی ۔ اس سے پہلے یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ نکاح اسلامی طرز پر کیا جائے گا اور کسی قسم کی کورٹ شپ نہیں ہوگی ۔ بہر حال بشیر احمد آرچرڈ کی قربانی کے نتیجہ میں دوسرے لوگوں میں بھی ایک قسم کی بیداری پیدا ہو گئی ہے اور انہیں دیکھ کر میں امید کرتا ہوں کہ اُن کے اندر اسلام کی حقیقی روح پیدا ہو جائے گی اور وہ اسلامی تمدن کے مطابق کام کرنے لگ