انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 77

انوار العلوم جلد ۲۱ ے کے ہر عبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوتوں کے مواقع پر تین تقاریر احمدی ہیں اور تازہ خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ جرمن لوگوں کے اندر اسلام کے متعلق خاص طور پر رغبت پائی جاتی ہے اور وہ اسلام کی تحقیق کر رہے ہیں ۔ مسٹر عبداللہ کو ہنے نے بھی اپنی زندگی وقف کر دی ہے اور اُن کی بیوی نے بھی ۔ وہ دونوں پاکستان آنا چاہتے ہیں اور یہاں آکر دینی تعلیم حاصل کریں گے ۔ مسٹر عبد اللہ کو ہنے ایک عالم آدمی ہیں اور آجکل قرآن کریم کے جرمن ترجمے پر نظر ثانی کر رہے ہیں چونکہ وہ ترجمہ ایسے لوگوں نے کیا تھا جو عیسائی تھے اُن کے خیالات اسلام سے ہمدردانہ نہیں تھے اس لئے ہو سکتا ہے کہ ترجمہ کرتے وقت اُنہوں نے کوئی غلطی یا کوتاہی کی ہو۔ مسٹر عبداللہ کو ہنے نے اپنے آپ کو اس کام کے لئے آفر (OFFER) کیا ہے۔ اب تجویز ہے کہ وہ پہلے انگلینڈ آئیں اور قرآن کریم کے جرمن ترجمے کو ریوائز (REVISE) کریں ۔ جب وہ یہ کام ختم کر لیں گے تو پھر پاکستان آجائیں گے ۔ - بہر حال اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ جرمنی میں اسلام کی اشاعت کے لئے کھولا ہے اور جیسا کہ مسٹر کنزے کا خیال ہے اور مسٹر کو ہنے کا بھی (مسٹر کو ہنے اٹلی سے تعلق رکھتے ہیں اور وہاں علماء اور پروفیسروں سے اُن کا میل جول تھا ) کہ جرمن قوم اسلام کی طرف بہت جلد مائل ہو سکتی ہے وہ کہتے ہیں کہ سب سے بڑی چیز جو جرمن قوم میں پائی جاتی تھی وہ مادیت ہے اور اس میں وہ بالکل ناکام رہے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اب اُن کی تسلی کے لئے کسی اور چیز کی ضرورت ہے اور وہ چیز مذہب ہی ہے اور چونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اب انہیں صرف مذہب ہی تسلی دے سکتا ہے اس لئے انہیں جتنی بھی تبلیغ کی جائے بہتر ہے اس طرح وہاں اسلام کے لئے رستہ کھل جائے گا۔ انہیں عیسائیت سے نفرت ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ تمام یورپین اُن کے خلاف تھے اور وہ کہتے تھے کہ وہ کرسچین سویلیزیشن کو بچانے کے لئے لڑ رہے ہیں ۔ اس لئے یہ لفظ کسی حد تک انہیں بھیا تک معلوم ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عیسائیت ہی اُن کی تباہی کا موجب ہوئی ہے اسی لئے وہ کسی اور مذہب کی تلاش میں ہیں جس کے ذریعہ وہ ترقی کر سکیں ۔ میں امید کرتا ہوں کہ جب یہ لوگ اسلام کو قبول کر لیں گے تو وہ اس کے لئے بہت قربانیاں کریں گے۔ چند دن ہوئے مجھے اطلاع ملی تھی کہ اب ہمارا مبلغ بھی وہاں پہنچ گیا ہے۔ پہلے تو ہمارے مبلغ کو وہاں جانیکی اجازت نہیں ملتی تھی اور یہ کہا جاتا تھا کہ غیر کو اس ملک میں آنے کی اجازت