انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 70

انوار العلوم جلد ۲۱ ہر عبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوتوں کے مواقع پر تین تقاریر میں رہتے تھے۔مسٹر کنزے برلن کے رہنے والے ہیں ) میں نے اُسے لکھا۔اُس کی محبت کا اس بات سے پتہ لگتا ہے کہ جب میں نے اُسے لکھا کہ ہمیں پاکستان آرمی کے لئے چند جرمن فوجی افسروں کی ضرورت ہے تو اُس نے رات دن ایک کر کے اور اپنے خرچ پر لمبے لمبے سفر کر کے اُن لوگوں کو پاکستان آنے کیلئے تیار کیا جو ہٹلر کے وقت میں فوج میں مختلف عہدوں پر تھے اور مجھے گیارہ آدمیوں کی ایک ٹیم بھجوائی اور لکھا پاکستان کیلئے جتنے عہدوں پر جرمن رکھنے کی ضرورت ہو ان کے لئے یہ کافی ہیں اور وہ اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔اُنہوں نے صرف ایک شرط رکھی تھی کہ ہمیں انگریزوں سے ذلیل نہ کروایا جائے بلکہ انگریزوں والی ٹرمز (TERMS) ہمیں بھی دی جائیں تاہم اُن کے سامنے ذلیل نہ ہوں اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں چاہتے لیکن حکومت نے اُس وقت یہ خیال کیا کہ اگر ہم نے فوج میں جرمن آفیسر ز رکھ لئے تو کہیں انگریز ناراض نہ ہو جائے گو یہ تحریک بھی حکومت نے خود کی تھی لیکن جب بعض لوگوں نے اپنی تی خدمات پیش کیں تو حکومت نے کہہ دیا شکریہ۔ہم نے اگر انہیں ملازم رکھا تو انگریز خفا ہوتی جائیں گے۔حکومت پاکستان کے اس رویہ سے اُس دوست کو تکلیف بھی پہنچی لیکن بہر حال اس بات سے یہ پتہ لگتا ہے کہ انہیں اب اس قدرا حساس ہو چکا ہے کہ وہ سیاسی طور پر بھی مشکلات کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسا کرنے کے لئے اپنا روپیہ خرچ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔میں سمجھتا ہوں ایک اور بھی چیز ہے جو ہمیں بھولنی نہیں چاہئے اور وہ یہ ہے کہ بیرونِ ممالک میں جو لوگ احمدی ہوں گے وہ اُردو زبان بھی سیکھیں گے اس لئے اشاعت احمدیت سے اُردو زبان کو بھی بہت زیادہ تقویت پہنچے گی۔انڈونیشیا میں ہمارا مشن قائم ہے۔وہاں جولوگ احمدی ہوئے اُن میں سے بعض نے اُردو زبان سیکھی اور پھر بعض نے اپنے بچوں کو قادیان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھی بھیجا۔مشرقی افریقہ میں اُردو جاننے والوں میں اکثریت اُن لوگوں کی ہے جو احمدی ہیں۔بعض لوگ ایسے تھے جو اُردو زبان کے بہت ہی مخالف تھے۔ایک دوست ابوالہاشم صاحب تھے انہیں احمدی ہونے سے قبل صرف احمدیت سے ہی نفرت نہیں تھی بلکہ وہ اُردو زبان کو بھی سننا نہیں چاہتے تھے۔وہ جب احمدی ہوئے تو اُنہوں نے