انوارالعلوم (جلد 21) — Page 68
انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۸ ہرعبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوتوں کے مواقع پر تین تقاریر کیں۔اُن کے ساتھ کھانا پینا بند کر دیا گیا اور اُن کا مکمل بائیکاٹ کر دیا گیا۔اُن کے ساتھ انگریزوں نے ایسا ہی سلوک کیا جس طرح ہمارے ملک میں ایک نئے احمدی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔فوج میں آپ کو بہت تکلیفیں دی گئیں لیکن آپ گھبرائے نہیں۔آپ نے نہ صرف پانچوں نمازیں پڑھنی شروع کر دیں، نہ صرف آپ نے محرمات کو ہی چھوڑا بلکہ تہجد بھی پڑھنی شروع کر دی۔آپ جب تک قادیان میں رہے با قاعدہ تہجد پڑھتے رہے۔اس کے بعد اُنہوں نے اسلام کی خدمت کیلئے زندگی وقف کی اور اب انگلینڈ میں وہ ہمارے مبلغ ہیں۔مسٹر کنزے دوسرے آدمی ہیں جنہوں نے اسلام کو بطور اسلام کے قبول کیا ہے۔آپ نے نہ صرف اسلام کو قبول کیا بلکہ یہ سمجھا کہ جب تک میں خود اسلام کو اچھی طرح نہیں سمجھتا ، جب تک میں خود اسلام کی تعلیم حاصل نہیں کرتا یہ فضول بات ہے کہ میں دوسروں کو اس کی تبلیغ کروں۔مجھے پہلے خود دینی تعلیم حاصل کرنی چاہئے اور اس کے بعد اسلام کو اس ملک میں پھیلانا چاہئے۔آپ نے اسلام کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کی اور دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے پاکستان تشریف لے آئے۔اور بھی بعض لوگوں کے اندر یہ روح پائی جاتی ہے۔دو اور جرمن نومسلموں کی طرف سے بھی وقف کے لئے درخواستیں آئی ہیں وہ دونوں میاں بیوی ہیں اور جرمنی کے مشہور جرنلسٹ اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔اسی طرح پولینڈ سے بھی ایک دوست کی وقف کے لئے درخواست آئی ہے وہ بھی اس وقت قید ہے۔حکومت نے اُسے فتھ کالمسٹ قرار دے دیا ہے بلکہ اب تو امریکہ میں یہ احساس پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے۔مجھے کئی خطوط آتے ہیں جن میں اس کا اظہار کیا گیا ہے اور وہ سوچ رہے ہیں کہ وہ بھی کسی طرح زندگی وقف کر کے اسلام کی خدمت کریں۔مسٹر کنزے ہماری تبلیغ کے دوسرے پھل ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح یہ قوم سائنس اور دیگر دنیاوی علوم میں آگے بڑھی ہوئی ہے، جس طرح وہ علمی طور پر یورپ کو لیڈ کر رہی ہے اسی طرح وہ مذہب میں بھی آگے بڑھ جائے گی اور تمام یورپ کو مذہبی طور پر لیڈ کرے گی۔جنگ میں اگر چہ وہ ہار گئی ہے لیکن اس قوم میں ترقی کی روح پائی جاتی ہے اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ جب اس قوم میں اسلام پھیل جائے گا تو یہ لوگ دین کے اچھے خادم ثابت ہوں گے۔