انوارالعلوم (جلد 21) — Page 49
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۹ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء بندوق اور لٹھ میں کیا فرق ہے۔وہ سمجھتے تھے کہ شاید بندوق آپ ہی آپ چلا کرتی ہے۔جب کارتوس نہیں ہونگے تو نشانہ بازی کیسے کی جاسکتی ہے اور جب تک بندوق چلائی نہ جائے مشق کیسے ہوسکتی ہے۔میں بچپن سے ہی بندوق چلا تا آرہا ہوں اب کبھی کبھی ناغہ ہو جاتا ہے۔اپنے وقت میں میں نے پستول کے ساتھ جانور مارے ہیں لیکن کچھ دن اگر گزرجائیں تو نشانہ درست نہیں رہتا۔اس دفعہ جب میں کوئٹہ گیا تو میں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ آؤ تمہیں نشانہ سکھائیں۔مجھے چونکہ مشق کئے دیر ہو چکی تھی اور وہ صبح شام مشق کرتی رہیں تیسرے چوتھے دن کی میری بیٹی نے مجھے بڑی شکست دی میں نے سمجھا کہ میری بیٹی دل میں کہتی ہوگی کہ ابا جان یونہی می کہتے رہتے ہیں کہ ہم یوں نشانہ بازی کیا کرتے تھے اصل بات یہ ہے کہ اس کام کے لئے مشق کی ضرورت ہے۔پس تم ہتھیار لو تو مشق کرو لیکن اس طرح کی مشق نہیں جیسے زمیندار مشق کیا کرتے ہے ہیں۔زمیندار ہمیشہ اپنے بنے کے شریک پر مشق کیا کرتے ہیں تم بیشک مشق کرو لیکن درخت اور دیوار وغیرہ پر کرو۔کسی آدمی کے سینہ پر نہ کرو اور اگر کسی آدمی کے سینہ پر ہی کرنی ہے تو پھر وقت آنے پر دشمن کے سینہ پر کرنا پہلے نہ کرنا۔ایک اور بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ آجکل بعض لوگوں کی طرف سے یہ سوال اُٹھایا جا رہا ہے ہے کہ کشمیر کی جنگ جہاد ہے یا نہیں ؟ قطع نظر اس کے کہ یہ سوال کتنی اہمیت رکھتا ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہمیں کشمیر سے ہمدردی ہے اور یہ لڑائی جہاد ہے وہ خود اس میں حصہ کیوں نہیں لیتے۔حقیقت یہ ہے کہ پنجابیوں نے اس میں بہت کم حصہ لیا ہے حکومت کی طرف سے کام کرنے والوں کے علاوہ سوائے ایک مثال کے اور کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی جماعت یا تی فرقہ نے طوعی طور پر کشمیر کی مدد کی ہو۔بڑا کام یہی سمجھا جاتا ہے کہ جلسہ کیا۔چند ریزولیوشن پاس کئے اور غلام عباس زندہ باد اور سردار ابراہیم زندہ باد کے نعرے لگائے اور سمجھ لیا کہ یہ چھپیں پاؤنڈ ر تو ہیں ہیں جو دشمن کے خلاف کام کر رہی ہیں حالانکہ جب تک تم کشمیر میں جا کر اور ی لڑائی میں حصہ لے کر ہندوستانیوں کو مردہ باد نہیں کر لیتے یہ لوگ زندہ باد کیسے ہو سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جس طریق پر جنگ جاری ہے اور جس طرح وہ لمبی ہو رہی ہے میں تفصیل میں تو کی نہیں جانا چاہتا لیکن پھر بھی میں تمہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ صورتِ حالات نہایت ہی خطرناک