انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page vii of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page vii

انوار العلوم جلد ۲۱ تعارف کت ۲۶ / دسمبر ۱۹۴۸ء میں یہ معرکۃ الآراء تقریر فرمائی۔اس سال ہندوستان سے ہجرت کرنے کے بعد پاکستان میں نیا مرکز ربوہ کی تعمیر مکمل نہ ہونے کی وجہ سے دسمبر میں جلسہ سالانہ نہ ہو سکا۔اس لئے آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس سال مرکز جلسہ سالانہ ربوہ میں ایسٹر ہالیڈیز (Easter Holidays) میں کیا جائے گا۔اس کے بعد آ جلسہ سالانہ کے موقع پر مکانات اور خوراک کی کمی کو پورا کرنے کے متعلق احباب نے جماعت کے سامنے چند تجاویز رکھیں اسی طرح ربوہ کی زمین کی خرید کے متعلق بھی ہدایات فرمائیں۔بعض لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونے والے وساوس کہ جب قادیان ہمیں واپس مل جانا ہے تو پھر ایک نیا شہر آباد کرنے کی ضرورت کیا ہے، کا جواب دیتے ہوئے عارضی مرکز کی ضروریات اور اُس کے فوائد بیان فرمائے نیز اس یقین کا اظہار فرمایا کہ قادیان ہمیں ضرور واپس ملے گا۔قادیان سے ہجرت کرنے کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات اور اپنے رویاء وكشوف کا ذکر فرمایا اور احباب جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس عارضی مرکز کے بارہ میں غفلت میں نہ رہے۔زمین کی قیمتیں بڑھتی چلی جائیں گی۔قادیان میں ایسا ہی ہوا تھا یہاں تک کہ بیس بیس ہزار روپیہ فی کنال تک قیمت پہنچ گئی تھی۔ہم نے خود انجمن کے لئے ساٹھ ہزار روپیہ پر ایک ٹکڑہ زمین خریدا تھا اسی طرح جو اس جگہ میں برکتیں ہونگی اُن سے بھی ان کو حصہ ملتا رہے گا۔درس و تدریس ہوگا، نئی نئی تحریکوں میں جلد از جلد حصہ لینے کا موقع ملے گا۔پس جماعت کو اس بارہ میں سستی نہیں کرنی چاہئے۔جس خدا نے مکہ کو برکت دی ہے ، جس خدا نے مدینہ کو برکت دی ہے، جس خدا نے قادیان کو برکت دی ہے میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اُس کے خزانے میں ابھی بہت سی برکتیں باقی ہیں تم گھبراؤ نہیں خدا تعالیٰ اس جگہ کو بھی با برکت بنادے گا۔“ اس خطاب کے آخر پر آپ نے فرمایا۔