انوارالعلوم (جلد 21) — Page 32
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۲ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء جد و جہد کو چھوڑ دیں جس کو خدا تعالیٰ نے قادیان کی واپسی کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔( اس موقع پر حضور نے فرمایا : ) ایک دوست نے سوال کیا ہے کہ اگر آپ کو پاکستان کے متعلق کوئی رؤیا ہوا ہو تو بتا ئیں اور اگر اب تک کوئی رؤیا نہیں ہوا تو جب بھی کوئی رؤیا ہو ہمیں بتا دیا جائے۔یہ سوال عجیب قسم کا ہے۔پاکستان قائم ہو چکا ہے اور جو چیز قائم ہو چکی ہو اس کے متعلق کسی رؤیا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔میں سمجھتا ہوں غالبا اس دوست کا یہ مطلب ہے کہ اگر پاکستان کے استحکام کے متعلق کوئی رؤیا ہوا ہو تو وہ بتایا جائے۔سو یا د رکھنا چاہئے کہ پاکستان کا قیام خدائی تقدیروں میں سے ایک تقدیر ہے اور اس میں شبہ کی کوئی بھی گنجائش نہیں کہ اب اسلام کے لئے ترقی کا زمانہ آ گیا ہے ہم لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں اسی لئے ایمان رکھتے ہیں کہ ہم پورے یقین کے ساتھ سمجھتے ہیں کہ اب آپ کے ذریعہ سے اسلام کو دوبارہ مستحکم کیا جائے گا اس لئے اب یہ سوال نہیں کہ فلاں علاقہ کے لوگ آگے بڑھیں گے یا ہم بلکہ اب اسلام یقیناً دوسری قوموں کو رگیدتا ہوا آگے ہی آگے اپنا قدم بڑھاتا چلا جائے گا۔اب اسلام کے غالب ہونے کی باری ہے کفر کے غالب ہونے کی باری ختم ہو چکی ہے۔سلسلہ تقریر کو جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا :) میں نے بتایا ہے کہ پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے لئے جدوجہد کی بھی ضرورت ہوتی ہے صرف یہ کہ دینا کہ فلاں چیز کے لئے پہلے سے پیشگوئی موجود ہے کافی نہیں ہوتا۔پس جب پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے جدو جہد کی بھی ضرورت ہوا کرتی ہے تو یہ لازمی بات ہے کہ اس کو پورا کرنے کیلئے ایک مرکز بھی ہو۔فوج لڑتی ہے تو اس کے لئے کمانڈر کی ضرورت ہوتی ہے، سٹاف اور عملہ کی ضرورت ہوتی ہے، مرکز کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر کوئی شخص یہ کہہ دے کہ ہمیں جب یہ یقین ہے کہ ہم ہی جیتیں گے تو پھر کسی کمانڈر کی کیا ضرورت ہے۔سٹاف اور عملہ کی کیا ضرورت ہے تو سب لوگ اُس کی حماقت پر ہنس پڑیں گے۔جب لڑائی ہو گی تو اُس کا ہیڈ بھی ہو گا سٹاف اور عملہ بھی ہوگا۔خواہ بڑی سے بڑی حکومت ہو یا چھوٹی سے چھوٹی۔سب کیلئے ان چیزوں کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔انگریز جب قبائلیوں پر حملہ کرتے تھے تو اُن کا بھی کمانڈر ہوتا