انوارالعلوم (جلد 21) — Page 617
انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۱۷ قرون اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز۔۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی نے دین سیکھنا ہو تو نصف دین عائشہ سے سیکھے۔اس کا مطلب یہ تھا کہ میں نے عائشہ کو ایسی ٹریننگ دے دی ہے کہ عورتوں کے متعلق جو نصف مسائل ہیں وہ ان سے سیکھے جا سکتے ہیں۔غرض خالی مرد کام نہیں کر سکتے۔قرآن کریم کو شروع سے آخر تک پڑھ کر دیکھ لو تمام مسائل، احکام اور انعامات میں عورت اور مرد دونوں کا ذکر ہے۔مثلاً اگر یہ کہا جاتا ہے نیک مرد تو ساتھ ہی کہا جاتا ہے نیک عورتیں۔اگر کسی جگہ ذکر ہے کہ عبادت کرنے والے مرد تو ساتھ ہی یہ ذکر ہوگا کہ عبادت کرنے والی عورتیں۔پھر اگر یہ ذکر کی ہے کہ جنت میں مرد جائیں گے تو ساتھ ہی یہ ذکر ہو گا کہ جنت میں عورتیں بھی جائیں گی۔مرد کی تھی اگر اعلیٰ درجہ کی نیکیاں ہیں اور وہ جنت میں ایک اعلی مقام پر رکھا جاتا ہے تو اُس کی بیوی جس کی و نیکیاں اُس مقام کے مناسب حال نہیں اپنے خاوند کی وجہ سے اسی مقام پر رکھی جائیں گی۔اسی طرح اگر عورت اعلیٰ نیکیوں کی مالک ہے اور ان کی وجہ سے وہ جنت میں اعلیٰ مقام پر رکھی جاتی ہے تو اس سے ادنی نیکیاں رکھنے والا خاوند بھی اس کی وجہ سے اُسی مقام پر رکھا جائے گا۔غرض تمام معاملات میں خدا تعالیٰ نے عورت اور مرد دونوں کی ذمہ داریوں کو اہمیت دی جی ہے۔بعد کے زمانہ میں بیشک اس تعلیم میں بہت فرق پڑ گیا مگر جہاں تک ابتدائی زمانہ کا سوال ہے اُس زمانہ میں عورتیں دین کی خدمت کرتی تھیں۔انہیں خدمت کا احساس تھا وہ جہاد کے لئے بھی باہر جاتی تھیں۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک عورت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ کیا مرد ہم سے زیادہ خدا تعالیٰ کے مقرب ہیں کہ وہ جہاد میں شامل ہوں اور ہم شامل نہ ہوں۔ہم بھی جہاد میں شامل ہوا کریں گی۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔چنانچہ وہ عورت ایک جنگ میں شریک ہوئی اور جب مال غنیمت تقسیم ہوا تو اُس کو بھی کی با قاعدہ طور پر حصہ دیا گیا۔بعض صحابہ نے کہا کہ اس کو حصہ دینے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں اس کو بھی حصہ دیا جائے گا۔چنانچہ اس عورت کو حصہ دیا گیا پھر آپ کی یہ سنت ہو گئی کہ جب مرد جہاد پر جاتے تھے تو مرہم پٹی کے لئے عورتیں بھی ساتھ چلی جاتی تھیں۔۱۴ رسول کریم می صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کی جنگوں میں بھی عورتیں شامل ہوتی رہیں اور بعض جنگوں پر عورتوں نے کمان بھی کی ہے چنانچہ اسلام میں جب فتنہ اُٹھا تو خدا تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت