انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 589

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۸۹ صحابیات کے نمونہ پر چلنے کی کوشہ کرتے ہیں اب اگر ان کا مطالبہ درست ہے تو جیسے ہم کھڑے ہیں یہ بھی کھڑی رہیں نہ عورتیں ہم کو جگہ دیں اور نہ ہم ان کو جگہ دیں۔یہ کونسا انصاف ہے کہ یوں تو مردوں کے ساتھ برابری کا دعوی کرتی ہیں اور جب ٹرین میں سوار ہونے کے لئے آتی ہیں تو چاہتی ہیں کہ مرد کھڑے ہو جائیں اور یہ بیٹھ جائیں۔اگر یہ ہمارے برابر ہیں تو پھر ہماری طرح ہی کھڑی رہیں۔اب اُس کا یہ جواب ہمارے نقطۂ نگاہ سے تو غلط تھا لیکن ان کے نقطہ نگاہ سے صحیح تھا۔اگر وہ واقعہ میں عورت اور مرد برابر ہیں تو انہیں قربانیاں بھی برابر کی کرنی پڑیں گی اور مردوں کے لئے کوئی وجہ نہیں ہوگی کہ وہ عورت کے لئے خاص طور پر قربانی کریں۔لیکن اس گفتگو کا اتنا حصہ ضرور درست تھا کہ اگر عورتیں اپنے حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں تو انہیں ساتھ ساتھ قربانیاں بھی کرنی ہے پڑیں گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اُحد کے موقع پر تشریف لے گئے تو ایک عورت بھی آپ کے ساتھ گئی جو سپاہیوں کو پانی پلاتی اور زخمیوں کو مرہم پٹی کرتی تھی۔جب لڑائی ختم ہوئی تو صحابہ نے پوچھا کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! کیا اس عورت کو بھی ہم مال غنیمت میں سے کچھ دے دیں؟ آپ نے فرمایا کچھ کا کیا سوال ہے اُسے برابر کا حصہ دو جب یہ جہاد میں شامل ہوئی ہے تو اسے لا زماً ویسا ہی حصہ ملے گا جیسے اور سپاہیوں کو ملتا ہے۔پس عورتوں کو اپنی ذمہ داری سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنی آزادی کی جدو جہد کرنی چاہئے مگر یورپ والی آزادی نہیں بلکہ وہ آزادی جو اسلام پیش کرتا ہے کیونکہ یورپ کی آزادی کی کی بنیاد بے دینی پر ہے اور اسلام جس آزادی کو پیش کرتا ہے اُس کی بنیاد مذہب اور روحانیت پر ہے۔بہر حال اگر تم سمجھتی ہو کہ تم دین کی ویسی ہی ذمہ دار ہو جیسے مرد ذمہ دار ہیں تو تمہیں دین کے لئے قربانیاں بھی کرنی پڑیں گی اور وہ قربانیاں تم اُس وقت کر سکتی ہو جب تم قرآن بھی پڑھو اور حدیث بھی پڑھو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا بھی مطالعہ کرو اور سلسلہ کا لٹریچر بھی دیکھتی رہو تا کہ تمہاری معلومات وسیع ہوں اور تم میں دین کے لئے قربانی کرنے کا جذ بہ پیدا ہو۔اس وقت حالت یہ ہے کہ مرد تو عام طور پر نمازی ہوتا ہے لیکن عورت نماز کی طرف بہت کم توجہ کرتی ہے یہی حال دوسرے ارکان کا ہے۔زکوۃ کو لے لو تو اس میں کمزوری