انوارالعلوم (جلد 21) — Page 587
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۸۷ صحابیات کے نمونہ پر چلنے کی کو جذ بہ پیدا ہو گیا اور میں اُس کے سینہ پر چڑھ گیا اور پھر میں نے اپنی لاتیں لمبی کیں اور جہاں اُس کے پاؤں ہیں وہاں میں نے بھی اپنے پاؤں پہنچا دیئے۔مگر وہ تو ان عورتوں کو مسلنے کے لئے اپنے پیر مار رہا ہے اور میں اُس کے پاؤں کی حرکت کو روکنے اور ان عورتوں کو اُبھارنے کیلئے اپنے پاؤں لمبے کر رہا ہوں۔اسی دوران میں میں ان عورتوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں۔اے عورتو! تمہارے لئے آزادی کا وقت آگیا ہے تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے اسلام اور احمدیت کے ذریعہ تمہاری ترقی کے راستے کھول دیئے ہیں اگر اس وقت بھی تم کی نہیں اُٹھو گی اور اگر اس وقت بھی تم اپنے مقام اور درجہ کے حصول کے لئے جد و جہد نہیں کروگی تو کب کرو گی۔میں نے دیکھا کہ جوں جوں میں نے اُن کو اُبھارنے کے لئے اپنے پیر ہلانے کی شروع کئے نیچے سے وہ مچھلیاں جن کو میں عورتیں سمجھتا ہوں اُبھرنی شروع ہوئیں اور وہ اتنی کی نمایاں ہوگئیں کہ میرے پیروں میں اس کی وجہ سے کھجلی شروع ہوگئی اور اُس آدمی کے پیر آپ ہی آپ گھلنے شروع ہو گئے یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ بالکل گھل گئے۔پھر میں نے اپنے مضمون کو بدل دیا اور عورتوں سے مخاطب ہوتے ہوئے میں نے کہا۔اگر اس وقت مرد اور عورت مل کر کام نہیں کریں گے اور اسلام کے غلبہ کی کوشش نہیں کریں گے تو اسلام دنیا میں غالب نہیں آسکے گا۔تم کو چاہئے کہ تم اپنے مقام کو سمجھو اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہوئے دین کی جتنی خدمت بھی کر سکو اتنی خدمت کرو۔پھر میں اور زیادہ زور سے کہتا ہوں کہ اگر تمہارے مرد تمہاری بات نہیں مانتے اور وہ دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے اور تمہیں بھی دین کا کام نہیں کرنے دیتے تو تم ان کو چھوڑ دو اور اُنہیں بتا دو کہ تمہارا اُن سے اُسی کی وقت تک تعلق رہ سکتا ہے جب تک وہ دین کی خدمت کے لئے تیار رہتے ہیں اور یہ الفاظ کہتے کہتے میری آنکھ کھل گئی۔حقیقت یہ ہے کہ ایثار اور قربانی سے ہی حقوق ملا کرتے ہیں اگر قربانی نہ کی جائے اور پھر امید یہ رکھی جائے کہ ہمیں ہمارے حقوق مل جائیں تو یہ ایک نادانی اور حماقت کا خیال ہوگا۔یہ زمانہ ایسا ہے جس میں یورپ والوں نے تو عورتوں کو اس قدر آزادی دے دی ہے کہ اب اس کے بُرے نتائج سے وہ چلا رہے ہیں اور اس آزادی نے ان کے نظام تمدن کو ہی بدل کر رکھ دیا