انوارالعلوم (جلد 21) — Page 25
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۵ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ لاہور ۱۹۴۸ء ضرورت ہی نہیں ہوتی۔یہی حال ہم نے دیکھا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیکھنے کے بعد ہمیں یہ احساس بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ آپ جھوٹ بول سکتے ہیں۔ایک دوست منشی اروڑے خاں صاحب ہوتے تھے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابی تھے اُنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دعوئی سے پہلے بھی دیکھا ہوا تھا اور آپ سے ملتے رہتے تھے۔ایک دفعہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھنے کیلئے قادیان تشریف لا رہے تھے کہ لوگ آپ کو پکڑ کر مولوی ثناء اللہ صاحب کے پاس لے گئے۔مولوی ثناء اللہ صاحب سے اُن لوگوں نے کہا کہ یہ (منشی صاحب) کپورتھلہ سے آرہے ہیں اور قادیان جا ر ہے ہیں۔یہ مرزا صاحب کے بڑے مرید ہیں آپ انہیں سمجھا ئیں۔مولوی ثناء اللہ صاحب دلائل دیتے رہے اور وہ خاموش بیٹھے سنتے رہے۔جب مولوی صاحب اپنے دلائل دے چکے تو لوگوں نے منشی صاحب سے کہا اب بتائیے کیا مرزا صاحب بچے ثابت ہوئے ہیں یا جھوٹے ؟ منشی کی صاحب نے فرمایا مولوی صاحب آپ نے پندرہ بیس منٹ تقریر کی ہے آپ خواہ دو دن بھی تقریر کریں میں نے تو حضرت مرزا صاحب کا منہ دیکھا ہوا ہے مجھ پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوسکتا۔میں نے حضرت مرزا صاحب کا چہرہ دیکھا ہے اور آپ کو دیکھنے کے بعد میں یہ جانتا ہوں کہ وہ جھوٹ نہیں بول سکتے۔اسی طرح ہم جو آپ کو بچپن سے دیکھتے رہے ہیں کسی طرح یہ قیاس بھی نہیں کر سکتے کہ آپ ( نَعُوذُ بِاللهِ ) اسلام کے دشمن تھے۔میں ابھی چھوٹا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچوں کے ساتھ بڑی مہربانی کے ساتھ پیش آتے تھے اور بڑی محبت کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ کسی کتاب کا مسودہ لکھ رہے تھے اُس وقت میری عمر گیارہ بارہ سال کی تھی آپ کی عادت تھی کہ آپ ٹہلتے بھی جاتے تھے اور لکھتے بھی جاتے تھے۔اسی طرح آپ اُس وقت ٹہلتے بھی جاتے تھے اور لکھ بھی رہے تھے۔مسجد کے پاس ہی ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جسے بیت الفکر کہتے ہیں۔اُس کی ایک کھڑ کی مسجد کی طرف کھلتی تھی۔میں بھی پہلے اُس کھڑکی سے گزر کر نماز پڑھانے کے لئے آیا کرتا تھا بعد میں ہجوم زیادہ ہونے کی وجہ سے ی ایک دوسری کھڑ کی بنادی گئی اور میں نے اُس سے آنا شروع کر دیا۔اس کمرے یعنی بیت الفکر میں حضرت اماں جان ) رحل پر قرآن کریم رکھے تلاوت کر رہی تھیں۔آپ کے پاس ہمارا