انوارالعلوم (جلد 21) — Page 553
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۵۳ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب بھی کوئی شبہ نہیں کہ علماء ہماری فوج ہیں اور جب فوج کے کسی حصہ میں غفلت پیدا ہو جائے تو یہ حالت بڑی خطرناک ہوتی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ان میں سے بعض کی نہ دین کی طرف توجہ ہوتی ہے ، نہ اُن میں خدا تعالیٰ کے عشق کی گرمی ہے، نہ قومی خدمت کا احساس ہے بس سوائے اس کے اور کوئی کام ہی نہیں کہ درسی کتب لڑکوں کو پڑھا دیں اور آرام سے سوئے رہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ میرے پاس رپورٹیں آتی رہتی ہیں کہ بعض دفعہ اُن سے سوالات کئے جاتے ہیں تو وہ اُن کے جواب نہیں دے سکتے۔اگر واقعہ میں ان کے دلوں میں دین کا درد ہوتا تو وہ پارہ کی طرح اُچھل رہے ہوتے مگر کسی میں کوئی گرمی ، کوئی حدت اور کوئی جوش مجھے نظر نہیں آتا۔اسی طرح جو باہر سے آنے والے مبلغ ہیں اُن کو میں یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو اپنے علاقوں کا بادشاہ تصور نہ کیا کریں۔میں نے بے شک اپنے علماء کی تنقیص کی ہے لیکن جماعت زندہ ہے اور جماعتی روح جسے دوسرے لفظوں میں خلافت کہتے ہیں وہ بھی زندہ ہے۔تمہیں یا رکھنا چاہئے ایک مرکز ہے جس کے بنائے ہوئے قانونوں پر تمہیں پوری طرح عمل کرنا پڑے گا اور اگر کوئی شخص اس کی خلاف ورزی کرے گا تو اُسے جماعت میں سے خارج کر دیا جائے گا۔پس بیرونی مبلغین بھی اپنے پہلے طریق کو بدل لیں۔یہ کہ محکمہ کی کمزوری کی وجہ سے تم اپنے علاقوں میں حاکم بنے رہو اس کے یہ معنی نہیں کہ تمہیں جماعت سے نکالا نہیں جاسکتا۔اگر تم دس ہزار میل پر بھی بیٹھے ہو اور تمہیں اپنے علاقوں میں لاکھوں لوگ عقیدت مندانہ نگاہوں سے دیکھتے ہوں ، تب بھی مرکز کی نافرمانی کرنے پر تم جماعت سے نکال دیئے جاؤ گے اس وقت تک اس بارہ میں کوتاہی سے کام لیا گیا ہے کیونکہ کام پر ایسے آدمی مقرر تھے جنہیں اپنی کی ذمہ داریوں کا احساس نہیں تھا مگر اب ہم مرکز کو ایسا مضبوط بنانے والے ہیں کہ مرکز کے ہر لفظ کی اطاعت ضروری ہوگی اور اگر کسی قسم کی کوتاہی ہوئی تو ایسے شخص کو سخت سزا دی جائے گی۔پس وہ من مانی کارروائیاں جو بیرونی مبلغین کر لیا کرتے تھے اب ان کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ تمہارے جاہلیت کے تمام خون میں اپنے پاؤں کے نیچے مسلتا ہوں اب کسی شخص کے لئے ان کا بدلہ لینا جائز نہیں ہوگا۔سکے اسی طرح میں اپنے پہلے طریق کو اپنے پاؤں کے نیچے مسلتا ہوں۔