انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 527

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۲۷ اسلام اور ملکیت زمین شادی بیاہ پر تو بہت زیادہ روپیہ خرچ کر دے گا۔یہ چیز اُسے مقروض کر دیتی ہے اور لازماً اس کی آمد کا ایک حصہ قرضہ کا منافع ادا کرنے میں خرچ ہو جاتا ہے۔(۱۱) مقدمه بازی ایک مصیبت زمیندار کو غریب کرنے والی اُس کا مقدمہ بازی کا شوق ہے۔یہ مرض اب تک زمینداروں سے نہیں گئی۔معمولی معمولی لڑائیاں اور معمولی معمولی جھگڑے جن کو غیر ملک کے لوگ ہنس کر ٹال دیتے ہیں ہما را زمیندار عدالت میں لے جائے بغیر اُن کو طے کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور پولیس اور وکلاء اِس میں اُس کو شہہ دیتے ہیں کیونکہ ایک کی کارگزاری اور ایک کی آمد اُس کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔حکومت کو ایسے ذرائع نکالنے چاہئیں جن سے یہ مقدمہ بازی ختم ہو۔ہمارے ملک میں تو عدالتوں کا جال پھیلا ہوا ہے۔یورپ میں اتنی عدالتیں نہیں ہوا کرتیں بالعموم آنریری مجسٹریٹوں سے ہی اُن کے کام چل جاتے ہیں اور چند ملازم مجسٹریٹ ملک کا دورہ کر کے سارے ملک کے مقدمات بھگتا دیتے ہیں مگر ہمارے ملک میں تو مجسٹریٹوں اور افسروں کی ایک فوج ہے جس کی مثال دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں پائی جاتی۔انگریز کو تو اس کی ضرورت تھی کیونکہ وہ غیر ملکی تھا اور یہاں کے امن کے قیام کے لئے اُس کو غیر طبعی ذرائع اختیار کرنے پڑتے تھے لیکن پاکستان یہی کام لوگوں کی تربیت کے ذریعہ سے کر سکتا ہے۔صحیح طور پر عوام الناس کی تربیت کی جائے تو مقدمات بھی کم ہو جائیں گے ، جھگڑے بھی کم ہو جائیں گے اور پھر پولیس اور مجسٹریٹی بھی کم ہو جائے گی، گورنمنٹ کا روپیہ بھی بچ جائے گا اور زمیندار کا روپیہ بھی بچ جائے گا۔(۱۲) روپے کا بوقت ضرورت مہیا نہ ہوسکنا ایک بڑی دقت زمیندار کیلئے ضرورت کے موقع پر روپیہ کا نہ پہنچنا ہے۔انگریزی زمانہ کے آخری دور میں کو آپریٹو سوسائیٹیز بنی تھیں مگر اُن کا دائرہ عمل بہت محدود تھا اور زیادہ تر چند افراد کو فائدہ پہنچانے کا موجب ہوتی تھیں۔پھر اُن میں سُودی کاروبار ہوتا تھا جو اسلام میں ناجائز ہے اور سُود بھی بڑا سخت ہوتا تھا۔میرے نزدیک اگر کو آپریٹو سوسائیٹیز بنائی جائیں اور اُن کو تجارتی اصول پر چلا یا جائے بجائے سُو دی اصول کے