انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 521

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۲۱ اسلام اور ملکیت زمین میں یعنی ہر ایسے حلقہ میں جس کی اوسط پیداوار دوسرے حلقہ سے مختلف ہوگئی ہے کمیٹیاں مقرر کی جائیں جو مالک زمیندار اور مزارع زمیندار کے سمجھوتہ کے ساتھ کسی فیصلہ کی کوشش کریں اور جو فیصلہ ہو جائے اس کے مطابق حصہ مقرر کر دیا جائے لیکن میرے نزدیک یہ مناسب ہوگا کہ مزارع کے حصہ میں گورنمنٹ کا معاملہ شامل ہو۔مثلاً فرض کرو ایک جگہ پر نصف حصہ پیداوار کا مزارع زمیندار کا سمجھا جائے اور نصف حصہ مالک زمیندار کا۔تو بجائے اس کے کہ مالک کو نصف حصہ دلوا کر معاملہ اُس سے وصول کیا جائے۔اگر معاملہ کی شرح پندرہ فی صد مجھی گئی ہے تو مالک کو ۳۵ فیصدی دلوایا جائے اور ۶۵ فیصدی مزارع کو دلوا کر معاملہ اور آبیانہ اس کے ذمہ ڈالا جائے۔یا فرض کرو کسی علاقہ میں چالیس فیصدی مالک کو دلوا نا مناسب ہوتا ہے اور فرض کرو معاملہ کی اوسط یہاں بھی پندرہ فیصدی تک پہنچتی ہے تو مالک کو ۲۵ فیصدی دلوایا جائے اور مزارع کو ۷۵ فیصدی دلوایا جائے لیکن معاملہ اور آبیانہ اُس پر ڈالا جائے۔اگر معاملہ اور آبیانہ مزارعین کے اوپر نہ ڈالا جائے گا تو وہ معاملہ اور آبیانہ ادا کرنے سے گریز کریں گے۔گورنمنٹ مالک زمین کو قید کر سکتی ہے مگر وہاں سے روپیہ پیدا نہیں کر سکتی جہاں روپیہ موجود نہیں۔لیکن اگر ی کسی وجہ سے ایسا کرنا مناسب نہ ہو تو پھر حکومت دونوں فریق کے مشورہ سے کوئی اور مناسب تدبیر تجویز کرے۔گو یہ شریعت کا مسئلہ تو نہیں مگر جتنی احادیث یا آثار ہمیں ملتے ہیں اُن سے یہ پتہ لگتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ شرح مبادلہ مسلمانوں میں یہی رہی ہے کہ پیدا وار زمین سے معاملہ اور آبیانہ کی رقم کو الگ کر کے جو باقی بچے وہ مالک اور مزارع میں نصف نصف کیا جائے۔کئی اور صورتیں بھی آئی ہیں لیکن جہاں تک میں نے غور کیا ہے اور جیسا کہ اوپر کی احادیث سے ثابت ہے اس سے زیادہ سخت شرح مسلمانوں میں کوئی ملتی نہیں۔پس جو بھی سمجھوتہ ہو اُس میں زمینداروں پر واضح کرنا چاہیے کہ اگر تم اسلامی طریق کو اختیار کرنا چاہتے ہو تو اسلامی ملائمت اور نرمی کو بھی اختیار کرو ورنہ منہ سے اسلام لانے کا کیا فائدہ؟ (۶) زمینوں کی حکومت کی طرف میرے نزدیک زمینداروں کی حالت کی خرابی میں بہت بڑا دخل اس بات کا بھی ہے سے وقت پر نگہداشت نہ ہونا نہ ہونا کہ گورنمنٹ کے محکمے زمینوں کی وقت پر