انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 492

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۹۲ اسلام اور ملکیت زمین ئن کیلئے اُن تمام ذرائع سے کام لے کر تیاری کرو جو تمہاری طاقت میں ہوں اور یہ حکم بغیر زراعت کے پورا نہیں ہوسکتا۔کیونکہ جو فو جیں سرحدوں پر بیٹھی ہوں گی یا دشمن کے قرب و جوار میں رہتی ہوں گی وہ تو کھیتی باڑی میں مشغول نہیں ہوسکتیں پس دوسرے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ کھیتی باڑی کر کے اُن فوجوں تک غلہ اور دوسرے کھانے پینے کے سامان بھجوائیں۔دیکھئے ان حوالوں سے ابن تین کی بات کس قدر بدل جاتی ہے۔ابن تین اپنے پاس سے بات نہیں کہتے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس حدیث میں کسانوں کا ذکر نہیں بلکہ زراعت کرنے والوں کا ذکر ہے اور علمائے اسلام نے ان احادیث کے یہ معنی کئے ہیں کہ یہ حدیث اُن مسلمانوں کے لئے ہے جن کے ذمہ حفاظت ملک کا کا م ہوتا ہے اُن کو کھیتی باڑی میں مشغول نہیں ہونا چاہئے اگر وہ ایسا کریں گے تو پھر جنگی فنون کی طرف سے غافل ہو جائیں گے۔ورنہ کھیتی باڑی ایک اچھا فعل ہے۔پس حدیث میں نہ کسی کسان کا ذکر ہے نہ کسی زمیندار کے ظلم کا ذکر ہے بلکہ مسلمانوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ اپنے کی میں سے ایک حصہ کو ( کیونکہ اُس وقت با قاعدہ فوجیں نہیں ہوتی تھیں ) کھیتی باڑی کی فکروں کی سے آزاد کر دیں۔تا کہ وہ لوگ کلّی طور پر فارغ ہو کر فنونِ جنگ کے سیکھنے میں لگ جائیں اور دشمن کے مقابلہ کے لئے ہر وقت تیار رہیں۔ظاہر ہے کہ ان معنوں سے کھیتی باڑی کرنے والے کی تعریف کی گئی ہے مذمت نہیں کی گئی اور کسانوں کا ظلم نہیں بیان کیا گیا بلکہ خواہ ملکیتی زمین رکھنے والا ہو یا مقاطعہ کی زمین رکھنے والا ہوا گر وہ فوج میں اپنے آپ کو بھرتی کرتا ہے یا ایسے مقام پر ہے جہاں سے اُسے فوجی خدمت کے لئے بلانے کی ضرورت پیش آجائے گی تو اُسے حکم دیا گیا ہے کہ وہ زراعت کے کام کی طرف توجہ نہ کرے تا کہ وہ جنگ کے کاموں کی طرف پوری توجہ دے سکے۔قرآن شریف میں بالکل اسی رنگ کا یہودیوں کا ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام یہودیوں کو کنعان کی طرف لے کر جا رہے تھے تا کہ اُس ملک کی بادشاہت اُن کے حوالے کی جائے تو رستہ میں بہت سی مشکلات پیش آئیں اور کئی قوموں سے انہیں جنگیں کرنی کی پڑیں۔ایک لمبا عرصہ گذر جانے کی وجہ سے یہودی گھبرا گئے اور انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام