انوارالعلوم (جلد 21) — Page 479
انوار العلوم جلد ۲۱ اسلام اور ملکیت زمین جیسا کہ ہندوستان کی زمین کو خراجی قرار دیا جاتا ہے لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُس کو خراجی قرار دے کر اور حکومت کو اُس کا مالک قرار دے کر اُس کو ضبط نہیں کیا بلکہ اُس کو خریدا۔شاید کوئی کہے کہ یہ زمین نہ خراجی ہوگی نہ عشری ہوگی بلکہ کسی اور قسم کی ہوگی تو یہ خیال بے ہودہ ہوگا اور اسلامی شریعت سے ناواقفی کی علامت ہوگا۔اُوپر جو حوالہ شاہ صاحب کا درج کیا گیا ہے اُس سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عشری اور خراجی کے سوا اور کوئی زمین اسلام میں نہیں سوائے اِس کے کہ وہ بریکار پڑی ہوئی ہو اور اُس کا مالک کوئی فرد واحد نہ ہو۔پس لازماً یہودی کی اور نصرانی اور مشرک اہلِ نجران کی زمینیں یا خراجی تھیں یا عشری تھیں مگر دونوں صورتوں میں اُن کا مالک حضرت عمرؓ نے اُن کے قابضوں کو قرار دیا ہے اور اُن سے وہ زمین خریدی ہے۔اب میں پھر شاہ صاحب کے حوالہ کی طرف آتا ہوں اور توجہ دلاتا ہوں کہ اس حوالہ کو پڑھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فتویٰ زمینداری کے مخالف لوگوں کے سراسر خلاف ہے نہ کہ اُن کی تائید میں۔شاہ صاحب تو اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ بادشاہ خراج اور محشر کو بھی معاف کر سکتا ہے۔لیکن جیسا کہ میں اوپر باب ۵ میں ثابت کر آیا ہوں میرے نزدیک کوئی بادشاہ عشر یا خراج کو معاف نہیں کر سکتا اور نہ کوئی حکومت ایسا کر سکتی ہے۔شاہ صاحب نے شریعت کا ادب مدنظر رکھتے ہوئے اشارہ اِس اعتراض کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ زمین کی آمدن عطیہ سمجھی جائے گی اور خراج یا عشر جو حکومت نے چھوڑا ہے وہ اُس شخص کی تنخواہ کی سمجھی جائے گی لیکن ظاہر ہے کہ یہ تو جیہہ کوئی ایسی اعلی توجیہ نہیں ہے۔در حقیقت بات یہی ہے کی که خراج بقدر عشر یا عشر کو کوئی حکومت معاف نہیں کر سکتی اور معافی والی جاگیر ہرگز اسلام میں تی جائز نہیں۔خراج کا اُتنا حصہ جو عشر کے برابر ہو اور عشر بہر حال تمام مسلمان زمینداروں سے لینا پڑے گا۔غیر مسلم پر چونکہ زکوۃ واجب نہیں اس لئے میں اس وقت اُس کے متعلق کوئی فتویٰ نہیں دیتا وہ مسئلہ اس بحث کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا۔لیکن ہر مسلمان زمیندار کو عشری زمین کے بدلہ میں عشر یا خراجی زمین کے بدلہ میں کم سے کم عشر کے برابر رقم لا زما دینی ہوگی اور حکومت کو یہ رقم لا ز مالینی ہوگی۔اگر کوئی مسلمان زمیندار یہ رقم نہ دے گا تو وہ گنہگار ہوگا اور اگر حکومت اتنی رقم اس سے نہ سے نہ لے گی تو وہ گنہگار ہوگی۔نہ اس کے معاف کروانے کا کسی کو حق ہے نہ اس کے