انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 472

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۷۲ اسلام اور ملکیت زمین کہ کمیونسٹ اصول کو انہوں نے ترک نہیں کیا۔چنانچہ غالبا ۱۹۲۷ ء یا ۱۹۲۸ء کی بات ہے کہ اُن کے متعلق تحریک کی گئی کہ چونکہ اب کمیونسٹ حکومت اُن کی مخالف ہے اس لئے اُن کو ہندوستان کی میں آنے کی اجازت دی جائے۔اُس وقت غالباً سر ماؤنٹ مورنسی پنجاب کے گورنر تھے۔انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا میں اُن کو جانتا ہوں اور آیا ان کو واپس آنے کی اجازت دینے میں کوئی حرج تو نہیں ہو گا ؟ میں نے اُنہیں جواب دیا کہ میں مولانا کو خوب جانتا ہوں وہ کی نہایت شریف اور نیک طبیعت کے آدمی ہیں لیکن اپنی بات کے پکتے بھی ہیں۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں ریشہ دوانی یا سازش کی باتوں سے وہ بالا ہیں اور اس قسم کا محبہ اُن پر نہیں کیا جاسکتا ہے مگر یہ کہ خود کمیونسٹ خیالات سے وہ آزاد ہو چکے ہوں میرے خیال میں یہ بات درست نہیں معلوم ہوتی کیونکہ وہ اپنی بات کے بڑے پکتے ہیں۔نہ جلدی رائے قائم کرتے ہیں نہ جلدی رائے چھوڑتے ہیں۔ہاں نیک طبیعت اور سادہ طبع ہونے کی وجہ سے دوسرے کے فائدہ کے خیال سے کبھی اپنی بات جلدی سے بدل بھی لیتے ہیں مگر طبیعت کی وجہ سے نہیں بلکہ اخلاق کی اتباع کے خیال سے۔کچھ عرصہ کے بعد اُن کے واپس آنے کی اجازت دے دی گئی۔میں نہیں ہے جانتا کہ اس تحقیق کے سلسلہ میں یا بعد میں دوبارہ سوال اُٹھایا گیا اور انہیں ہندوستان واپس آنے کی اجازت مل گئی۔اس کے بعد ہمیں ملنے کا اتفاق نہیں ہوا۔شاید ۱۹۴۴ ء کی بات ہے کہ میں نے اُن کو دعوت دینے کا ارادہ کیا مگرمیں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ وہ فوت ہو گئے۔پرانی طرز کے علماء میں سے وہ ایک نہایت ہی اعلیٰ پایہ کے آدمی تھے لیکن اُن کا کوئی خیال دلیل نہیں کہلا سکتا۔وہ بعض دفعہ عجیب عجیب قسم کی باتیں سوچا کرتے تھے۔اُن کے دوست اُن کے دماغ کی اس کیفیت کو خوب جانتے ہیں۔میں مثال کے طور پر ایک بات پیش کرتا ہوں۔ایک دفعہ مجھ سے کہنے لگے کہ آپ جانتے ہیں کہ میں احمدیوں سے کوئی تعصب نہیں رکھتا۔میں نے کہا خوب جانتا ہوں۔کہنے لگے اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں احمد یہ عقیدہ سے بھی متفق ہوں۔میں مرزا صاحب کو ایک بڑا بزرگ سمجھتا ہوں اور صوفی سمجھتا ہوں مگر میرا یقین ہے کہ اُن کو صحیح اور مہدی کے بارہ میں غلطی لگی ہے اور اس بارہ میں میں نے بڑی لمبی تحقیق کی ہے اور گہرا